خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 46 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 46

خطبات طاہر جلد 17 46 خطبہ جمعہ 16 جنوری 1998ء یہ وہی بات ہے جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔کشوف تو ہوتے ہیں مگر کشوف میں ایک نفس کا دھوکا بھی شامل ہو جاتا ہے۔جوگی بھی جو ریاضتیں کرتے ہیں وہ کشوف دیکھتے ہیں لیکن ان کشوف کا بنی نوع انسان کی بھلائی اور نیکی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔وہ عجیب وغریب کشوف ہیں جن کے تفصیلی تذکرے کی یہاں ضرورت نہیں مگر جو گیوں نے کبھی دنیا میں پاکیزگی نہیں پھیلائی۔کبھی دُنیا میں کسی مذہب کے جو گیوں نے بنی نوع انسان کی روحانی حالت تبدیل نہیں کی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام متوجہ فرمارہے ہیں کہ روزے کے کشوف میں بعض دفعہ جو گیوں والی کیفیت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔لیکن روحانی گدازش جو دعاؤں سے پیدا ہوتی ہے اس میں کوئی شامل نہیں۔“ (البدر جلد 1 نمبر 10 صفحہ:2 مؤرخہ 8 جون 1905ء) اب یہ دیکھیں کہ نماز کوروزہ سے افضل قرار دیا ہے اور ہم کہتے ہیں کہ روزہ سب سے افضل ہے۔روزہ کی جزا اللہ ہے۔اس میں غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔روزہ بمقابل نماز نہیں ہے بلکہ روزہ کا مقصد نماز ہے اور نمازوں کی حالت کو درست کرنا ہے۔پس اگر روزہ میں نمازیں نہ سنور میں تو روزہ بے کار ہے۔اگر روزہ میں نمازیں سنور جائیں تو روزہ نماز کا معراج اور نماز میں روزے کا معراج بن جاتی ہیں۔پس اس میں تفریق نہ کریں ورنہ مضمون بالکل بگڑ جائے گا۔حقیقت میں روزہ کے دوران جتنی نمازیں سنوریں گی اتنا ہی روزہ کا آپ پھل پائیں گے اور اس حد تک سنور جانی چاہئیں کہ گویا آپ کو خدا نظر آ گیا اور گویا اللہ آپ کو دیکھنے لگا۔یہ صورتیں ہیں جو درحقیقت روزہ کی افضلیت میں پیش نظر رہنی چاہئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : خدا تعالیٰ نے دین اسلام میں پانچ مجاہدات مقرر فرمائے ہیں۔نماز ، روزہ ، زکوۃ 66 صدقات، حج ، اسلامی دشمن کا ذب اور دفع خواہ سیفی ہو خواہ قلمی۔“ یہ پانچ مجاہدات ہیں جو مسلمان پر فرض ہیں۔پہلی نماز ، پھر ز کوۃ صدقات اس کے ذیل میں آتے ہیں چوتھا حج اور پانچواں جہاد خواہ وہ سیفی ہو خواہ وہ قلمی ہو۔فرمایا: یہ پانچ مجاہدے قرآن شریف سے ثابت ہیں۔مسلمانوں کو چاہئے کہ ان میں کوشش کریں اور ان کی پابندی کریں۔یہ روزے تو سال میں ایک ماہ کے ہیں۔بعض اہل اللہ تو نوافل کے طور پر اکثر روزے رکھتے رہتے ہیں اور ان میں مجاہدہ کرتے ہیں۔ہاں دائمی