خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 557 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 557

خطبات طاہر جلد 17 557 خطبہ جمعہ 14 اگست 1998ء آنحضرت صلی لا یہی تم نے فرمایا: تم نے اسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے؟ میں نے جواب دیا کھجوریں دینا چاہتی ہوں۔آپ مالی یہ تم نے فرمایا: اگر تو نے ایسا نہ کیا تو یہ تیرا جھوٹ شمار ہوگا۔“ (مسند احمد بن حنبل، حدیث عبداللہ بن عامر ، مسند نمبر :15702) پس قول سدید کا تجربہ گھروں سے شروع ہونا چاہئے۔تمام وہ اولادیں جو رفتہ رفتہ بگڑ کر دور چلی جاتی ہیں بچپن میں ان سے قول سدید سے کام نہیں لیا جاتا۔بارہا میں نے ماؤں کو توجہ دلائی ہے اور اب پھر میں دوبارہ متوجہ کرتا ہوں باپ بھی مخاطب ہیں مگر بالعموم ما ئیں جن کا روزمرہ بچوں سے واسطہ ہوتا ہے اکثر وہ بچوں کو گلے سے اتارنے کے لئے کوئی جھوٹا وعدہ کر دیتی ہیں اور جب وہ پورا نہیں کرتیں تو یہ قول سدید کے خلاف ہے اور قول سدید کے نہ ہونے کے نتیجہ میں اصلاح ہو ہی نہیں سکتی۔جب اللہ تعالیٰ نے اصلاح کا وعدہ قول سدید سے وابستہ فرما دیا ہے تو ظاہر ہے کہ قول سدید نہیں ہوگا تو اصلاح نہیں ہوگی۔یہ دو باتیں قول سدید اور اصلاح لازم ملزوم ہیں۔اگر ایک نہیں ہوتی تو دوسری بھی نہیں ہوگی اور یہ نکتہ اکثر لوگ اپنے بچوں کی تربیت میں بھلا دیتے ہیں۔بچوں سے جو بات کہو صاف اور سیدھی کہو اس کے نتیجہ میں وہ ہمیشہ اوّل تو تمہاری زیادہ تو قیر کریں گے کیونکہ جوشخص اپنے وعدہ کا پکا ہو اور صاف کھری بات کہنے والا ہو ہمیشہ اس کے لئے دلوں میں عزت پیدا ہوتی ہے۔یہ بھی ایک ایسا طبعی نتیجہ ہے جسے نظر انداز کیا ہی نہیں جاسکتا۔حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی ا یہ تم سب سے زیادہ کھری بات کرنے والے تھے۔اگر کھری بات کے نتیجہ میں لوگ دور بھاگ رہے ہوتے تو آنحضرت سالی ایم کے ارد گرد تو کوئی بھی نہ رہتا۔اصل میں آپ صلی اسلم کالوگوں کے اوپر رحمت اور شفقت کا سلوک ایک الگ مسئلہ ہے اس نے بھی لوگوں کو کھینچ رکھا مگر یہ بات لوگ نظر انداز نہ کریں کہ کھری بات کہنے سے بھی عزت بڑھتی ہے اور جو ہمیشہ کھری بات کہنے والا ہو آہستہ آہستہ اس کی نصیحت سے منافرت نہیں پیدا ہوتی بلکہ دن بدن اس کی عزت اور احترام کا جذبہ دل میں بڑھتا چلا جاتا ہے۔پس آنحضرت صلی یکم کھری باتیں کہنے میں ظاہر ہے دنیا میں تمام پہلوں اور اگلوں سے سبقت لے گئے اور سب سے زیادہ آپ مسی مایہ نہ کی توقیر کی گئی۔بہت گہری تو قیر ہے جو صحابہ کے دل میں بھی تھی بلکہ دشمن بھی آپ صلی ایتم کی کھری بات کی قدر کرتا تھا۔