خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 549
خطبات طاہر جلد 17 549 خطبہ جمعہ 7 اگست 1998ء بھی فخر تھا کہ اس دولت کو ہم استعمال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مغربی راہنماؤں کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا ہمارے اندرونی معاملات میں تم نے ہرگز دخل نہیں دینا ، اپنے معاملات ہم خود طے کریں گے اور ہمارے پاس کافی وسائل موجود ہیں کہ ان معاملات کو طے کریں اور اس کا رد عمل کیا ہوا ۔ تمام دنیا میں جن پر ان ملکوں کا اثر تھا ان کے تجارتی روابط نائیجیریا سے کاٹے گئے۔ اب اچانک نائیجیریا نے محسوس کیا کہ ایک رسی میں اس طرح حلقہ تنگ کیا جا رہا ہے اور ان کے تیل کی فروخت پر پابندیاں لگا دیں۔ ظاہری پابندیاں نہیں مگر ہدایات یہی دے دی گئیں کہ یہ ملک ذرا سر اٹھا رہا ہے اور اس کو وہم ہے کہ یہ آزاد ہے تو یہ وہم دور ہو جانا چاہئے ۔ چنانچہ وہ پابندیاں بھی گنی شروع ہوئیں اور نسبتاً زیادہ سخت ہوتی رہیں یہاں تک کہ نائیجیریا نے محسوس کیا کہ اس کی چٹکی ایسی ہے جو دل کو کاٹ لے ۔ کچھ دیر تک تو انہوں نے برداشت کیا مگر بالآخر مغربی طاقتوں کے دباؤ ہی کے نتیجے میں ان کو حاجی ابیولا کو آزاد کرنا پڑا اور مغربی طاقتوں کا خیال تھا کہ حاجی ابیولا کے ذریعہ دوباره نائیجیر یا پر اپنی حکومت قائم کر لیں گے۔ 66 حاجی ابیولا کو ایسا دل کا دورہ پڑا جس کے متعلق آج تک ماہرین جو ہیں وہ دو گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں ۔ پہلے فوجی سربراہ سربراہ کے کے عین عین ایک آ مہینہ بعد، بعینہ ایک مہینہ بعد ویسا ہی دل کا کا دورہ پڑا جیسے اس کو پڑا تھا اور اس کی چھان بین کس نے کی؟ مغربی طاقتوں کے نمائندوں نے ، یونائٹڈ نیشنز کے نمائندوں نے اور انہوں نے حالات کا جائزہ لے کر اعلان کر دیا کہ کوئی بھی اس میں خرابی نہیں تھی۔ اب پنجابی میں کہتے ہیں دودھ دارا کھا بلا ۔ پہلے کو اگر مقرر کر دیا جائے کہ دودھ کی حفاظت کرے تو وہ آپ ہی پی جائے گا ۔ تقریباً اسی قسم کا واقعہ وہاں گزرا ہے تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ یہ اتفاق تھا، ۔ حسن اتفاق تھا یا کچھ اور بات تھی مگر ان کی بیٹی سے ہمارا رابطہ ہوا اور ان کی بیٹی یہاں آکر مجھ سے ملتی بھی رہی ہیں ۔ بہت سمجھدار سلجھی ہوئی خاتون ہیں اور بعید نہیں کہ انہی کو آئندہ راہنما بنا لیا جائے۔ انہوں نے مجھ سے تفصیل سے یہ باتیں کیں کہ ہمارے خلاف سازشوں کا ایک تانا بانا بنایا جارہا ہے۔ اب جبکہ وہ نائیجیر یا پہنچیں تو میرے نمائندوں نے ان سے ملاقات کی اور انہوں نے ہمارے نمائندوں کو بتایا کہ ان کو اس فیصلہ پر ادنی بھی اطمینان نہیں جو یہ دے چکے ہیں لیکن وہ کہتی ہیں کہ میں کروں کیا، میرے اختیار میں اور کچھ بھی نہیں۔ ساری ٹیمیں یونائیٹڈ نیشنز کی نگرانی میں کام کر رہی ہیں