خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 548
خطبات طاہر جلد 17 548 خطبہ جمعہ 7 اگست 1998ء کے گچھے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا جس کو آگ میں پھینک دیا جائے یعنی ان کے ذہن میں وہ تصور ہی نہیں جو عام لوگوں کے ذہن میں ٹیلی فون کالوں کا تصور ہے۔تو اس لحاظ سے وہ دُنیا کے ہر مقام سے، جہاں بھی جاتے تھے لازمہ بنا رکھا تھا کہ مجھ سے ٹیلی فون پر بات کریں گے اور پوچھا کرتے تھے کہ یہاں میں اس غرض سے آیا ہوا ہوں، یہ میرا دُنیا کا تجارت کا معاملہ ہے، یہ ایسا معاملہ ہے جس کا ہماری سیاست سے تعلق ہے، آپ بتائیں مجھے کیا کرنا چاہئے یعنی مجھ سے مشورہ لینے میں بے انتہا عاجز تھے لیکن ان کے رشتے داروں اور ان کے باقی لوگوں کو تو یہ باتیں معلوم نہیں۔جس پارٹی کے وہ سربراہ تھے وہ دراصل Islamic Fundamentalism کی پارٹی ہے جو اسلامی بنیاد پرستوں کی سر براہی میں قائم ہوئی ہے اور اسی کے نتیجہ میں اس کو کافی نفوذ ہوا ہے اور ان کے بنیادی ارادوں میں یہ بات داخل تھی کہ اگر ہم آگئے تو عیسائیوں کا بھی قلع قمع کریں گے جن کو سیاست میں نفوذ ہے اور معتدل مسلمانوں کو بھی ٹھیک کرلیں گے۔اب الحاجی ابیولا کی یادیں تو وہاں کوئی کام نہیں کر سکتیں ، وہ کسی تحریر میں نہیں آئیں، کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جس میں یہ درج ہوں سوائے اس وقت میرے دماغ کی کتاب ہے جس میں یہ باتیں درج ہیں۔تو ہمارے امیر صاحب نائجیر یا ان باتوں کو بھی اپنی سرخ کتاب میں درج کریں اور یہ لکھ لیں کہ ایک بہت بڑا نائیجیرین قوم کا ہمدرد اور راہنما رخصت ہو گیا جو جماعت احمدیہ سے جو استفادہ کیا کرتا تھا وہ بھی اس کے دماغ کے ساتھ ہی رخصت ہو گیا۔وہ اگر رہتا تو مجھے یقین ہے کہ اسی طرح ہمارے مشورہ کے مطابق رفتہ رفتہ ان انتہا پسندوں کا رخ دوسری طرف پھیر دیتا لیکن اس بے چارے کی زندگی نے وفا نہیں کی۔اب جماعت نائیجیریا کو چاہئے کہ یہ باتیں درج کرے اور ان کے پیچھے جو باقی راہنما ر ہتے ہیں ان سے پوچھ لیں اور ان سے رابطے کی وسیع مہم چلائیں اور یہ منصوبہ بنائیں کہ نائیجیر یا اکٹھا رہے۔مجھے نائیجیریا کے متعلق یہ سخت فکر لاحق ہے کہ چونکہ نائیجیریا سے بعض مغربی قو میں سخت دشمنی کر رہی ہیں کیونکہ نائیجیریا نے اس وقت اپنا سر بلند کیا اور اپنی انفرادیت کو قائم رکھنے کی کوشش کی جب کہ باقی افریقن ممالک کو یہ مغربی قوموں کے سر براہ جو کچھ کہا کرتے تھے ان کو آنکھیں بند کر کے مان لیا کرتے تھے۔اتفاقی حادثہ ہوا ہے مگر ہوا اچھا کہ اس وقت کے جو فوجی سربراہ تھے ان کو اپنی طاقت کا اتنا شدت سے احساس ہوا کہ اپنے ملک میں میں جو چاہوں کروں اور اپنے تیل کی دولت کا