خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 547
خطبات طاہر جلد 17 547 خطبہ جمعہ 7 اگست 1998ء ہر احمدی ملک کو پیش نظر رکھنا ہے۔ہر جگہ مختلف خرابیاں ہوتی رہتی ہیں ان کی پیش بندی کے لئے تمام اقدامات کرنے ضروری ہیں اور انقلابات کے نتیجے میں جو امکانات پیدا ہوتے ہیں اور جو خطرات پیدا ہوتے ہیں ان کی پہلے سے تسلی کے ساتھ ٹھنڈے دل اور دماغ کے ساتھ ان پر غور کر کے ان کا تجزیہ کرنا ضروری ہے۔اب اس وقت ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کے فضل سے مختلف علاقوں کے سر براہ آئے ہوئے ہیں۔ان میں ایک نائیجیریا کے بھی ہیں ان سے جب میں نے پوچھا تو انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو نئے حالات ہیں وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں اور جماعت کے لئے خدمت کرنے کا اور موقع ہے لیکن مجھے ان کے اس جواب پر انشراح نہیں ہے کیونکہ نائیجیر یا میں ایک لمبی کشمکش چل رہی ہے ، بعض انتہا پسند مسلمانوں کے درمیان اور بعض عیسائیوں کے درمیان اور بعض معتدل مسلمانوں کے درمیان ، اور اس کشمکش کے نتیجے میں جب فسادات پھوٹتے ہیں تو اچانک پھوٹتے ہیں اور ان کی پیش بندی کے لئے لازم ہے کہ ان سارے امور پر تجزیہ کر کے ان لوگوں سے رابطہ پیدا کیا جائے جو علاقے کے سر براہ ہیں اور ان کو بھی سمجھایا جائے اور پھر وقت آنے پر جماعت کو کیا قدم اٹھانے چاہئیں پہلے سے یہ بات طے کر کے ان تک پہنچا دی جائے ورنہ وہ قدم اٹھانے کے وقت آپ ان تک نہیں پہنچ سکیں گے۔آپ نے بے شک بہت اچھا منصوبہ بنایا ہو جب ضرورت پڑے گی تو آپ ان تک نہیں پہنچ سکیں گے اور ان کو کیا پتا چلے گا کہ ہمارے لئے کیا منصوبہ ہے، ہمیں کیا ہدایت ہے۔تو بہت سے امور ہیں جن میں تفصیلی ہدایات کا طے ہونا ہی ضروری نہیں بلکہ وقت پر ان لوگوں تک پہنچا دینا ضروری ہے تا کہ جب بھی خدانخواستہ ایسے حالات بر پا ہوں تو فوری طور پر ان پر عمل درآمد کریں۔جونائیجیریا کے بدلے ہوئے حالات ہیں ان میں کچھ خرابیاں ابھی ہیں جن کی طرف جماعت کو پوری توجہ کرنی چاہئے۔ابیولا صاحب جن کے انتخاب کے نتیجہ میں سارا جھگڑا چلا تھا، ابیولا صاحب سے میرے اور جماعت کے بہت گہرے ذاتی تعلقات تھے۔وہ جب یہاں تشریف لا یا کرتے تھے تو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ ہمارے پاس نہ پہنچے ہوں۔اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے اپنے معاملات میں جو پیچیدہ تھے مجھ سے مشورہ نہ کیا ہو۔اس کے بعد دُنیا میں جہاں جاتے تھے وہاں سے ٹیلی فون پر رابطہ کرتے تھے کیونکہ ارب پتی آدمی تھے، ٹیلی فون کا بل تو ان کے لئے ایک کاغذ