خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 534 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 534

خطبات طاہر جلد 17 534 خطبہ جمعہ 31 جولائی 1998ء یہی توقع جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت سے رکھی اس کے سوا میں اور کیا توقع کر سکتا ہوں۔پس میں اُمید رکھتا ہوں کہ آپ محض اس باغ کی باتیں نہیں کریں گے۔جب تک اس باغ سے پھل کھانا نہ شروع کر دیں آپ اطمینان سے نہیں بیٹھیں گے اور یہ پھل ایسے ہیں جو جب آپ کھا ئیں گے تو آپ کو یقین ہو جائے گا کہ یہ آسمان سے اترنے والے پھل ہیں۔زندگی سر سے پاؤں تک اور پاؤں سے سر تک شاداب ہو جائے گی۔خدا تعالیٰ کی رحمت اور پیار کا سلوک کوئی ایسا سلوک تو نہیں جو انسان کو غیر معمولی طور پر اس کا احساس نہ دلائے۔ایک باپ یا ایک ماں یا کوئی اور عزیز جب شفقت سے پیش آتا ہے تو آپ جانتے ہیں کہ آپ کے دل پر کیا گزرتی ہے، کیسے آپ فرحت محسوس کرتے ہیں مگر اللہ کی شفقت کے تو رنگ ہی اور ہیں سوائے ان کے جن کو اس باغ سے پھل کھانے کی توفیق نصیب ہوئی ہو کوئی دوسرا اس کیفیت کا اندازہ ہی نہیں کرسکتا۔فرمایا: یا درکھو ایمان بغیر اعمال صالحہ کے اُدھورا ایمان ہے۔کیا وجہ ہے کہ اگر ایمان کامل ہو تو اعمال صالحہ سرزد نہ ہوں؟ اپنے ایمان اور اعتقاد کو کامل کرو ورنہ کسی کام کا نہ ہوگا۔لوگ اپنے ایمان کو پورا ایمان تو بناتے نہیں پھر شکایت کرتے ہیں کہ ہمیں وہ انعامات نہیں ملتے جن کا وعدہ تھا۔“ اگر باغ کو سینچو گے ہی نہیں تو پھل کیسے لائے گا ، وہ خشک لکڑیوں میں تبدیل ہو جائے گا جو آگ میں جھونکنے کے لائق ہوگا۔”بے شک خدا نے وعدہ فرمایا ہوا ہے مَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ (الطلاق: 4،3 ) یعنی جو خدا کا متقی اور اس کی نظر میں متقی بنتا ہے اس کو خدا تعالیٰ ہر ایک قسم کی تنگی سے نکالتا اور ایسی طرز سے رزق دیتا ہے کہ اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ کہاں سے اور کیوں کر آتا ہے۔خدا (تعالی) کا یہ وعدہ برحق ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ خدا ( تعالیٰ ) اپنے وعدوں کو پورا کرنے والا ہے ) اور بڑا رحیم وکریم ہے، جو اللہ تعالیٰ کا بنتا ہے وہ اسے ہر ذلت سے نجات دیتا ہے اور خود اس کا حافظ و ناصر بن جاتا ہے۔مگر وہ جو ایک طرف دعوئی اتفا کرتے ہیں اور دوسری طرف شا کی ہوتے ہیں کہ ہمیں وہ برکات نہیں ملے۔ان دونوں میں سے ہم کس کو سچا کہیں اور کس کو جھوٹا ؟