خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 535 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 535

خطبات طاہر جلد 17 535 خطبہ جمعہ 31 جولائی 1998ء خدا تعالیٰ پر ہم کبھی الزام نہیں لگا سکتے۔اِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ - (آل عمران: 10) خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کرتا۔ہم اس مدعی کو جھوٹا کہیں گے۔اصل یہ ہے کہ ان کا تقویٰ یا ان کی اصلاح اس حد تک نہیں ہوتی کہ خدا (تعالی) کی نظر میں قابل وقعت ہو، یا وہ خدا کے متقی نہیں ہوتے ،لوگوں کے متقی اور ریا کار انسان ہوتے ہیں۔“ یہ سب سے بڑا خطرہ ہے جو ہر وقت انسان کے سر پر ایک تلوار کی طرح لٹکا ہوا ہے۔تقویٰ تو اللہ کا کرتے ہیں یعنی بظاہر لیکن ڈرتے لوگوں سے ہیں۔عبادت تو بظاہر خدا کی بجالاتے ہیں مگر دکھاتے لوگوں کو ہیں۔سو اُن پر بجائے رحمت اور برکت کے لعنت کی مار ہوتی ہے جس سے سرگرداں اور مشکلات دنیا میں مبتلا رہتے ہیں۔خدا تعالیٰ متقی کو کبھی ضائع نہیں کرتا اور وہ اپنے وعدوں کا پکا اور سچا اور پورا ہے۔“ اس کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک چھوٹی سی عبارت پڑھ کر میں اس خطاب کو ختم کرتا ہوں۔فرماتے ہیں : حضرت داؤد زبور میں فرماتے ہیں کہ میں بچہ تھا، جوان ہوا، جوانی سے اب بڑھاپا آیا مگر میں نے کبھی کسی منتقی اور خدا ترس کو بھیک مانگتے نہ دیکھا۔اور نہ اس کی اولا دکو در بدر دھکے کھاتے اور ٹکڑے مانگتے دیکھا۔“ الحکم جلد 7 نمبر 12 صفحہ: 5 مؤرخہ 31 مارچ 1903ء) پس اگر آپ یہی چاہتے ہیں کہ آپ سے ایسا ہی سلوک ہو تو ان کے اعمال کا خیال کریں جن سے خدا ایسا ہی سلوک فرما یا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی تو فیق عطا فرمائے۔آمین