خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 533 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 533

خطبات طاہر جلد 17 533 خطبہ جمعہ 31 جولائی 1998ء تو جب ملک الموت وار کرتا ہے تو اچانک کرتا ہے اور اس بات کا محتاج نہیں کہ کوئی بیمار ہو اور کوئی صحت مند ہو۔اس لئے کیونکہ ہمیں یقین نہیں ہے کہ ہم کتنا عرصہ یا کتنے لمحے زندہ رہیں گے اس لئے نیک باتیں سننے کے بعد ان کے عمل میں تاخیر کا فیصلہ بہت مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔اللہ کی مرضی ہے کہ وہ مہلت کو بڑھا دے لیکن یہ بھی تو اسی کی مرضی ہے کہ مہلت کو کم کر دے۔اس لئے میں اُمید رکھتا ہوں کہ آپ ان نصائح کو پوری طرح مضبوطی سے پکڑ کر بیٹھ جائیں گے اور اس مضمون میں میں آئندہ آج کے افتتاحی خطاب میں زیادہ تفصیل سے روشنی ڈالوں گا کہ آپ کو کیا کرنا چاہئے۔اس عرصہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس اقتباس پر اپنے اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں۔فرماتے ہیں: اسی طرح تمہاری روحانی حالت معمولی سی تو بہ یا کبھی کبھی ٹوٹی پھوٹی نماز یا روزہ سے سنور نہیں سکتی۔روحانی حالت کے سنوارنے اور اس باغ کے پھل کھانے کے لئے بھی تم کو چاہئے کہ اس باغ کو وقت پر خدا کی جناب میں نمازیں ادا کر کے اپنی آنکھوں کا پانی پہنچاؤ “ کتی فصیح و بلیغ کتنی دلکش عبارت ہے۔روحانی حالت سنوار تے ہو تو اس کا نتیجہ ایسے باغات کی صورت میں تمہیں ملنا چاہئے جو اس دُنیا میں بھی پھل دیں اور اس دُنیا میں بھی پھل دیں اور باغات کو تو سینچا جاتا ہے۔پس اس باغ کا پھل کھانے کی اگر تم تمنار کھتے ہوتو : اس باغ کو وقت پر خدا کی جناب میں نماز میں ادا کر کے اپنی آنکھوں کا پانی پہنچاؤ اور اعمال صالحہ کے پانی کی نہر سے اس باغ کو سیراب کرو۔“ اعمال صالحہ کو بھی پانی سے تشبیہ دی ہے کیونکہ اعمال صالحہ ہی ہیں جو اس باغ کو اس دُنیا میں یا آخری دوسری دُنیا میں جنتوں کی صورت میں اس کی سیرابی کا موجب بنیں گے۔اعمال صالحہ نہ ہوں تو کوئی نیک نیت کوئی نیک ارادہ کام نہیں آسکتا۔ارادہ کے سچا ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اگر وہ سچا ہو تو اس کے مطابق عمل کرنے کی بھی توفیق ملتی ہے اگر سچا نہ ہو تو محض دل کی خواہشات ہیں اس سے زیادہ اس کی کوئی بھی اہمیت نہیں۔چنانچہ فرمایا: اعمال صالحہ کے پانی کی نہر سے اس باغ کو سیراب کرو تا وہ ہرا بھرا ہو اور پھلے پھولے اور اس قابل ہو سکے کہ تم اس سے پھل کھاؤ۔“