خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 530
خطبات طاہر جلد 17 530 خطبہ جمعہ 31 جولائی 1998ء حضرت شہر بن حوشب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے پوچھا کہ اے ام المومنین ، آنحضرت صلی السلام جب آپ کے ہاں ہوتے تھے تو زیادہ تر کونسی دعا کیا کرتے تھے ۔ اس پر ام سلمہ نے بتایا کہ حضور علیہ السلام یہ دعا پڑھتے تھے یا مُقَلب القُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ ۔ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے حضور صلی ای ایم سے اس دعا پر مداومت کی وجہ پوچھی تو آپ صلی السلام نے فرمایا ، اے ام سلمہ انسان کا دل خدا تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے۔جس شخص کو ثابت قدم رکھنا چاہے اس کو ثابت قدم رکھے اور جس کو ثابت قدم نہ رکھنا چاہے اس کے دل کو ٹیڑھا کر دے۔ اب یہ دعا بھی ہمارے لئے اس دور میں بہت ہی اہمیت رکھتی ہے اس میں بہت سی باتیں قابل توجہ ہیں ۔ اوّل یہ کہ حضرت اقدس محمد من رت اقدس محمد مصطفی صلی الله السلام کو تبار کو ثبات قدم نصیب تھا ۔ ایسا ثبات قدم نصیب تھا جس پر عرش کے خدا نے بارہا گواہی دی تھی پھر یہ دعا کیوں کرتے ہیں۔ دو وجوہات مجھے سمجھ آتی ہیں ۔ اوّل یہ کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی الا یہ کام کا طبعی انکسار تھا جس کی وجہ سے آپ صلی لا الہ سلم کو ثبات قدم نصیب ہوا۔ ایک لمحہ بھی آپ صلی لسما السلام کے دل میں یہ وہم نہیں گزرتا تھا کہ میرا ثبات قدم میری کسی خوبی کی وجہ سے ہے بلکہ ہر لمحہ جانتے تھے کہ اللہ نے توفیق عطا فرمائی ہے تو مجھے ثبات قدم عطا ہوا ہے ۔ دوسرا یہ کہ امت کے لئے نصیحت تھی کہ میں جسے خدا تعالیٰ نے ثابت قدم قرار دیا اور بار باد یا میں بھی تو اللہ کی رحمت اور اس کے منشاء کا محتاج ہوں۔ وہ جس شخص سے چاہے اپنی رضا پھیر لے اور اس کا چاہنا ہمیشہ کسی دلیل کے نتیجے میں ہوا کرتا ہے اور بسا اوقات انسان کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ کیا وجہ تھی ۔ تو اس لئے نامعلوم کیفیات کا خوف کر کے جانتے ہوئے کہ میں اپنے دل پر بظاہر نگران ہوں مگر نہیں جانتا کہ دل میں کیا کیا مخفی کیفیات ہیں جن پر میری نظر نہیں ، میرے مولیٰ کی نظر ہے اس بنا پر یہ دعا امت کے لئے ضروری قرار دے دی گئی کہ اللہ سے دعا مانگو کہ وہ دلوں کو سیدھا ہی رکھے اور یہ فیصلہ نہ کرے کہ یہ دل ٹیڑھا ہونے کو ہے ۔ یہ سارا حضرت اقدس محمد رسول الله صل الا الی یوم کا طریق عمل انکسار ہی کی بنا پر تھا اور اس بنا پر تھا کہ اللہ کے فضل کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں اور اللہ کے فضل آپ پر اتنے بے شمار تھے کہ خدا کا شکر ادا کرنا بھی آپ صلی ای ستم یہی سمجھتے تھے کہ اللہ کے فضل کے بغیر ممکن نہیں ۔ رات بھر شکریہ ادا کرتے تھے لیکن پھر بھی ساری زندگی یہی تھی۔ اس یقین کی بنا پر کہ جب تک اللہ تعالیٰ شکر کو قبول نہ فرمائے میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتا کہ کیا انجام ہوگا۔