خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 526
خطبات طاہر جلد 17 526 خطبہ جمعہ 31 جولائی 1998ء کرتا ہوں ، نمازوں کی ادائیگی کے علاوہ ملاقاتوں کو چھوڑ کر بھی مجھے با قاعدہ MTA پر لمبے لمبے خطابات کرنے پڑتے ہیں، لمبی لمبی مجالس میں شامل ہونا پڑتا ہے اور پھر آج کل کی تقاریر یہ بھی بہت وقت لیتی ہیں اور لیں گی تو نعوذ باللہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ میں حضرت اقدس محمد مصطفی ملی لی ایم کی سنت سے احتراز کر رہا ہوں یہ ناممکن ہے۔موقع اور محل کے مطابق خود آنحضرت سالی تم بھی یہی طریق اختیار فرمایا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں لکھتے ہیں : بعض وقت اس قدر لمبی تقریر فرماتے کہ صبح سے لے کر شام تک ختم نہ ہوتی۔درمیان میں نمازیں آجاتیں تو آپ مسلہ یہ تم ان کو ادا کر کے پھر تقریر شروع کر دیتے۔“ (البدر جلد 3 نمبر 2 صفحہ:12 مؤرخہ 8 جنوری 1904ء ) اگر صبح کی نماز بھی جیسا کہ اصل جو بڑی روایت ہے اس میں یہ ذکر موجود ہے، شامل ہے، تو یہ تب ہی ممکن تھا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی شما اینم روزے سے ہوں اس لئے آپ صلی یتیم مغرب کے وقت اس خطاب کو ختم فرما دیا کرتے تھے ورنہ خود بھی سارا دن فاقہ سے رہنا اور باقی سب کو بھی اسی طرح رکھنا غالباً یہ بعید از قیاس ہے۔بہر حال حضور اکرم ﷺ کا یہی طریق تھا۔مسند احمد بن حنبل جلد 5 مطبوعہ بیروت میں یہ روایت تفصیل سے درج ہے جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اشارہ فرمایا ہے۔ابوزید انصاری سے روایت ہے: حضرت رسول کریم مالی اسلام نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی پھر منبر پر تشریف لا کر ہمیں خطاب فرمایا یہاں تک کہ ظہر کا وقت ہو گیا۔پھر آ مل لیا کہ تم منبر سے نیچے اترے اور ظہر کی نماز پڑھائی۔“ میں سمجھتا ہوں کہ یہ واقعہ رمضان میں ہوا ہوگا کیونکہ میں اسے ممکن نہیں سمجھتا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی سی ای تیم خود تو روزے میں ہونے کی وجہ سے کھانے کی ضرورت محسوس نہ فرما ئیں لیکن اپنے صحابہ کو تکلیف میں ڈالیں کیونکہ پچھلی جتنی احادیث گزری ہیں وہ آسانی پیدا کرنے کی ہدایت پر مشتمل احادیث ہیں اور خود حضرت اقدس محمد مصطفی ملی یہ نام کے فرمودات ہیں اس لئے میں ہرگز یقین نہیں کرتا کہ یہ واقعہ عام دنوں کا واقعہ ہے جب صرف رسول اللہ صلی یتیم روزے سے ہوں۔لازماً کوئی ایسا دن ہے جس میں صحابہ بھی روزے سے تھے اور ان کو لمبی نصیحت کرنے سے ان پر کوئی مشقت عائد نہیں کی جاتی تھی۔بہر حال یہ تشریحات ہیں۔اصل روایت یہ ہے کہ: