خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 517
خطبات طاہر جلد 17 517 خطبہ جمعہ 24 جولائی 1998ء بعض لوگ کبابی کی دکان پر کھڑے ہیں تو ہر کباب کے اترنے کا انتظار ہو رہا ہے اور پیچھے لائنیں لگی ہوئی ہیں وہ جگہ ہی نہیں چھوڑتے۔اپنی چیز مرضی کی لیں اور الگ ہو جائیں اور اگر اتنا الگ الگ گرم کباب کھانے کا شوق ہے تو گھر میں بنائیں ، بازار کا حق بہر حال ادا کریں۔اور دوسرا جم گھٹا لگا کر دکانوں پر کھڑا ہونا ہی معیوب نہیں بلکہ گروہ در گروہ ٹولیوں کی صورت میں قہقہے لگاتے شور مچاتے ہوئے پھرنا بھی ناواجب بلکہ بعض دفعہ گناہ بن جاتا ہے اور یہ بھی رستوں کے حق کے خلاف ہے۔رستوں سے مراد یہ نہیں کہ سڑکیں ہی ہوں پبلک جگہیں جو عامۃ الناس کے چلنے پھرنے کی جگہیں ہیں وہ بھی رستوں میں شمار ہوں گی۔ایسے لوگ ہم نے دیکھے ہیں جو ٹولیاں بنا کر پھرتے ہیں اور آپس میں مذاق اڑا رہے ہیں اور قہقہے مارتے جا رہے ہیں۔ان کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ جو دوسرے دیکھنے والے ہیں ان پر برا اثر پڑتا ہے بلکہ بعض اوقات ایک راہ گیر اور خاص طور پر اگر کوئی باہر کا ہو وہ یہ سمجھتا ہے کہ مجھ پر مذاق اڑایا گیا ہے۔عین اس وقت قہقہ لگاتے ہیں جب وہ پاس سے گزرا ہے اور اس سے اس کی سخت دل شکنی ہوتی ہے۔بعض دفعہ اس کے نتیجے میں لڑائی بھی شروع ہو جاتی ہے۔تو اس بات کا بھی خاص طور پر خیال رکھیں کہ اگر ٹولیوں میں پھرنا ہے تو خاموشی سے پھریں ، آہستہ باتیں کرتے ہوئے پھریں، ہر گزا اپنی آوازوں کو بلند نہ کریں اور ہر گز کسی کی دل شکنی کا موجب نہ بنیں خواه ارادہ یا غیر ارادی طور پر ہو۔تکلیف دہ چیزوں کا رستہ سے اٹھانا۔یہ بھی ایمان کے شعبوں میں سے ایک ادنی شعبہ ہے اگر کوئی ایسی چیز نظر آئے مثلاً کیل کانٹ وغیرہ یا کیلے کا چھلکا تو یہ انتظار نہ کریں کہ جن لوگوں کی ڈیوٹی ہے اس کام پر وہی اس کو دور کریں گے۔ایسی چیز کو تو فوراً دور کرنا چاہئے اور اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ خود یہ چیزیں نہ پھیلائیں۔اگر تکلیف دہ چیز میں اٹھانے کا حکم ہے تو پھیلا نا تو اور بھی بری بات ہے۔یہ اچھی بات ہے تو پھیلا نا گناہ بن جائے گا کیونکہ اس کا دور کرنا فرض ہے۔اس لئے میرا مشورہ یہ ہے کہ اپنی جیبوں میں ایک چھوٹا سا پلاسٹک کا تھیلا (Bag) رکھ لیا کریں۔اس سے جیب پھولتی بھی نہیں معمولی سا ہوتا ہے کہیں آپ نے کوئی چیز پھینکنی ہو، کچھ کھارہے ہوں اس کاWaste کیلے کا چھلکا مثلاً یہ اگر آپ نے کہیں ڈالنا ہو تو اپنی جیب سے تھیلا نکالا اس میں ڈال دیا اور وہی تھیلا آپ کے کام آئے گا۔جب آپ کوئی خطرناک چیز رستہ میں دیکھیں گے تو اس کو اٹھا کر ہاتھوں میں لڑکائے ہوئے نہیں پھریں