خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 515
خطبات طاہر جلد 17 515 خطبہ جمعہ 24 جولائی 1998ء أَفَشُوا السّلام کا ارشاد ہے یعنی آنحضرت سلی یا کہ تم نے فرمایا : سلام نشر کرو۔(سنن ابن ماجه، كتاب الأطعمة، باب اطعام الطعام، حدیث نمبر : 3251) اور یہ عادت آپ ڈالیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی روایت میں نے بیان کی ہے اس میں بھی سلام سے بات شروع ہوئی ہے۔پس سلام کہنے سے دو باتیں پیش نظر رہیں گی۔ایک تو یہ کہ آپ ہر آنے والے کی عزت کر رہے ہوں گے۔دوسرا یہ کہ سلام کہہ کر آپ اس کو مطمئن کر رہے ہوں گے کہ آپ کی طرف سے اسے کوئی خطرہ نہیں ہے۔آپ کی طرف سے وہ یقیناً امن کی حالت میں رہے گا۔پس ان دونوں باتوں کوملحوظ رکھتے ہوئے سلام پھیلانے کی عادت ڈالیں۔خواتین کو میں ہمیشہ نصیحت کرتا ہوں کہ پردے کا لحاظ رکھیں لیکن مشکل یہ ہے کہ بعض مہمان خواتین بھی آتی ہیں اس لئے اگر کوئی ایسی مہمان خاتون ہو جس نے سنگھار پٹار بھی کیا ہو اور پردے کا بھی لحاظ نہ ہو یہ خیال کرنا چاہئے کہ وہ غالباً احمدی نہیں ہے لیکن بعض دوسرے دوست جو مثلاً عرب ممالک سے تشریف لاتے ہیں وہ ہر خاتون سے اسی طرح کے پردے کی توقع رکھتے ہیں جو ہم جماعت میں رائج کر رہے ہیں اور بعض لوگوں نے جا کر پھر مجھے اعتراض کے خط بھی لکھے کہ ہم تو بڑی توقع لے کر آئے تھے کہ آپ پر دے کا بہترین نمونہ دکھا رہے ہونگے مگر ہم نے ایسی عورتیں دیکھیں جو پوری طرح سنگھار پٹار کر کے، کٹے ہوئے بال ، سر پر چھنی نہیں اسی طرح پھر رہی تھیں۔تو اول تو یہ خیال کریں کہ اعتراض میں جلدی نہیں کرنی چاہئے۔مومن، مومن پرحسن ظن کرتا ہے اس لئے حسن ظن سے کیوں کام نہیں لیتے اور جو منتظمین ہیں ان کے لئے بھی مناسب نہیں ہے کہ ایسی عورتوں کو سخت لفظوں میں یا دوٹوک لفظوں میں کہیں کہ تم پردہ کر کے پھرو۔بعض دفعہ وہ عورتیں جن کو عادت ہوتی ہے وہ اس بات کو برا مناتی ہیں۔بعض دفعہ بعض احمدی خواتین ہیں جو نئی احمدی ہوئی ہیں ان کو بعض احمدیت کے رواجوں کا پتا نہیں۔کچھ ایسے لوگ ہیں جو بیماری کی وجہ سے مجبور ہیں۔سر کو پوری طرح ڈھانپ نہیں سکتے۔تو احمدی خواتین کے لئے تو لازم ہے کہ اگر انہوں نے کسی مجبوری سے پردہ نہیں کرنا تو سرکو ڈھانپیں۔یہاں ہماری اُردو کلاس کی بچیوں کو اور چلڈرن کلاس کی بچیوں کو میں نے نصیحت کی تھی۔آپ دیکھیں گے تو حیران رہ جائیں گے کہ کتنی تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔یہاں کی پلی بڑھی بچیاں چھوٹی چھوٹی عمر کی اس احتیاط سے اپنے سر کو ڈھا نپتی ہیں کہ دل عش عش کر اٹھتا ہے تو اسی