خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 514 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 514

خطبات طاہر جلد 17 514 خطبہ جمعہ 24 جولائی 1998ء اب میں حسب سابق جلسہ پر آنے والوں اور ان کے مہمان نوازوں کو عمومی نصائح کرتا ہوں جو ہر اس خطبہ میں کیا کرتا ہوں جو جلسہ سے پہلے کا خطبہ ہوتا ہے۔قرض لینا۔بعض لوگوں کو قرض لینے کی عادت ہوتی ہے اور جن کو عادت ہوتی ہے ان کو واپسی کی عادت نہیں ہوتی۔اس لئے اگر کوئی بد قسمتی سے ایسے لوگ آگئے ہوں تو ان کو خیال کرنا چاہئے کہ یہ اللہ کے میز بانوں کا اللہ کے مہمانوں پر حق ہے کہ ان کو نا جائز تکلیف نہ دی جائے۔یہاں جتنے لوگ آپ کی میزبانی کریں گے ان سے قرض نہ مانگا کریں اور ان کو چھوڑ کر آپس میں بھی ایک دوسرے سے نہ مانگا کریں کیونکہ جن کو یہ عادت ہے میں جانتا ہوں کہ ان کو نہ دینے کی عادت بھی ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود واقعی ضرورت پڑسکتی ہے۔میں نے اس سے پہلے اس بات کا انتظام کیا تھا کہ جن کو واقعی ضرورت ہو وہ نظام جماعت سے رابطہ کریں۔امیر صاحب سے بات کریں یا مجھے لکھیں۔بتائیں کہ کیا ضرورت پیش آگئی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ سچی ضرورت کو ضرور پورا کیا گیا ہے۔تو کیوں اپنے آپ کو ابتلا میں ڈالتے ہیں یا دوسروں کو ابتلا میں ڈالتے ہیں۔لین دین کے معاملہ میں صاف ہو جا ئیں۔جو گھر کے عزیز رشتہ دار ہوں ان پر تین دن یا پندرہ دن کی کوئی پابندی نہیں ہے۔وہ رشتہ دار رشتہ داروں کے پاس آتے رہتے ہیں ان کا آپس کا ایک سلوک ہے جو روایتا چلتا ہے۔بعض رشتہ دار، بعض رشتہ داروں کو اپنے گھر مہینوں رکھنا چاہتے ہیں اور ان کے جانے سے ان کو تکلیف ہوتی ہے اور یہ ایسی باتیں ہیں جن کو الگ الگ لکھا نہیں جا سکتا، الگ الگ بیان نہیں کیا جا سکتا مگر آپس کے تعلقات ہیں جو خود بخو د اس بات کو واضح کرتے ہیں۔تو ایسے آنے والے رشتہ دار اپنے آپ کو مستقی سمجھیں، تین دن اور پندرہ دن سے۔جن کے عزیز اور اقرباء ان کو ہمیشہ اپنے گھر ٹھہراتے اور اصرار کرتے ہیں کہ وہ ٹھہرے رہیں لیکن ان میں سے کچھ مستی بھی ہیں اس بنا پر کہ وہ رشتہ دار ہیں از خود ان کو پندرہ دن سے زیادہ یا تین دن سے زیادہ ٹھہرنے کا حق نہیں پہنچتا۔اس لئے اگر دونوں طرف سے لین دین کا معاملہ ہوتو یہ ایک معروف بات ہے۔مگر یہ سمجھ کر کہ کوئی رشتہ دار ہے آپ اس کے گھر ٹھہر جائیں اور میرے اس خطبہ کا حوالہ دے کر کہیں اب ہمیں چھٹی ہے جتنی دیر مرضی ٹھہریں تو وہ غلط اور جھوٹا حوالہ ہوگا۔یہ آپس کے تعلقات کا معاملہ ہے جس کو انگریزی میں Reciprocal کہتے ہیں، Reciprocal ہوتا ہے یعنی دونوں طرف سے ایک ہی قسم کا معاملہ ہوتو وہی مناسب ہے۔