خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 513
خطبات طاہر جلد 17 513 خطبہ جمعہ 24 جولائی 1998ء بعض علاقوں کے مہمانوں کو سردی نہ بھی ہو تو سر دی بہت لگتی ہے اور پاکستان کی شدید گرمی سے آنے والوں میں سے بھی کئی ایسے ہیں جو مجھے ملنے آتے ہیں تو کہتے ہیں یہاں سردی ہے حالانکہ سردی وردی کچھ نہیں لیکن آب و ہوا کی تبدیلی سے یہ ہو جاتا ہے۔انڈونیشیا کے مہمان جب بھی آتے ہیں وہ خواہ گرمی ہو، وہ سردی سے کانپ رہے ہوتے ہیں۔اس لئے ان کی بیرکس میں میں نے کہا ہوا ہے کہ ہمیشہ ہیٹرز وغیرہ کا انتظام کرو کیونکہ یہ ان کی آب و ہوا کے نتیجہ میں ان کا حق تم پر ہے۔مولوی حسن علی صاحب مرحوم نے اپنے واقعہ کا خود اپنے قلم سے ذکر کیا جو ان کی کتاب تائید حق میں چھپا ہے۔آپ فرماتے ہیں: مرزا صاحب کی مہمان نوازی کو دیکھ کر مجھ کو بہت تعجب سا گزرا۔“ یہ حضرت مولوی حسن علی صاحب کے احمدیت قبول کرنے سے پہلے کے سفر کا حال ہے جو انہوں نے احمدیت قبول کرنے کے بعد بعینہ اسی طرح لکھا جو اس سفر میں آپ نے محسوس کیا اور دیکھا۔کہتے ہیں: ”مرزا صاحب کی مہمان نوازی کو دیکھ کر مجھ کو بہت تعجب سا گزرا۔ایک چھوٹی سی بات لکھتا ہوں جس سے سامعین ان کی مہمان نوازی کا اندازہ کر سکتے ہیں۔مجھ کو پان کھانے کی بُری عادت تھی۔جس زمانہ میں یہ لکھا گیا غالباً اس وقت پان چھوڑ بیٹھے ہوں گے۔کہتے ہیں: مجھ کو پان کھانے کی بری عادت تھی۔امرتسر میں تو مجھے پان ملالیکن بٹالہ میں مجھ کو پان کہیں نہ ملا۔ناچارالا چی وغیرہ کھا کرصبر کیا۔میرے امرتسر کے دوست نے کمال کیا کہ حضرت مرزا صاحب سے نہ معلوم کس وقت میری اس بری عادت کا تذکرہ کر دیا۔جناب مرزا صاحب نے گورداسپور ایک آدمی کو روانہ کیا۔دوسرے دن گیارہ بجے دن کے جب کھانا کھا چکا تو پان موجود پایا۔سولہ کوس سے پان میرے لئے منگوایا گیا تھا! “ (رساله تائید حق از مولوی حسن علی صاحب صفحه :50) ی تھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مہمان نوازی۔یہ اس مہمان نوازی کا عالم تھا جس میں کوئی ریا کا شائبہ تک نہیں۔مہمان سمجھتا تھا کہ پان یہاں مہیا نہیں ہوسکتا۔بٹالہ میں نہیں تو قادیان میں کہاں سے ہو گا لیکن حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سولہ میل دور گورداسپور آدمی بھیجا اور ان کو ان کی عادت کے مطابق پان پیش فرما دیا۔