خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 507
خطبات طاہر جلد 17 507 خطبہ جمعہ 24 جولائی 1998ء مسئلہ نہیں ہے کہ ضرور دائیں طرف لیٹا جائے مگر اوندھے لیٹنے کو حضور اکرم صلی تم اس لئے ناپسند فرماتے تھے کہ اللہ نا پسند فرماتا ہے اور یہ ایک عجیب طبی حقیقت ہے کہ اکثر وہ بچے جن کو مائیں الٹا ڈال دیتی ہیں اکثر تو نہیں مگر ان میں سے بہت سے بچے جن کو مائیں الٹا ڈالتی ہیں ان کا سانس بند ہو جاتا ہے اور وہ سوتے ہی میں فوت ہو جاتے ہیں۔پس طبی لحاظ سے بھی یہ ایک مضر بات ہے اوندھے منہ نہیں سونا چاہئے۔ایک روایت حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لی گئی ہے یعنی ابن عمر بھی صحابی تھے اور حضرت عمر بھی صحابی تھے اس لئے عنہما کہنا چاہئے۔حضرت ابن عمر نے اپنے باپ عمر سے بیان کیا ہے رضی اللہ عنہما۔اللہ ان دونوں سے راضی ہو۔وہ کہتے ہیں کہ : آنحضرت مصلال الہی ہی سفر کے ارادہ سے جب اونٹ پر بیٹھ جاتے تھے تو تین بار تکبیر کہتے اور پھر یہ دعا مانگتے ، پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے تابع فرمان کیا۔“ اب آپ میں سے میرا نہیں خیال کہ کوئی آنے والا بھی اونٹ پر بیٹھا ہو سوائے اس کے کہ ڈیرہ غازی خان کے کچھ لوگ اونٹ پر بیٹھ کر گاڑی تک پہنچے ہوں یہ الگ مسئلہ ہے لیکن مراد سواری ہے۔آج کی جو سواری ہے وہ اونٹ کا قائم مقام ہے اِذَا الْعِشَارُ عُقِلتُ (التكوير : 5) جب بہتر سواریاں ایجاد ہو جائیں گی اور اونٹنیوں کو بریکار چھوڑ دیا جائے گا۔یہ آیت بتا رہی ہے کہ اونٹ سے مراد یہاں صرف سواری ہے۔د تین بار تکبیر فرماتے پھر دعا مانگتے پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے تابع فرمان کیا۔سُبُحْنَ الَّذِى سَخَّرَ لَنَا هُذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ (الزخرف: 14) حالانکہ ہم میں اسے قابورکھنے کی طاقت نہیں تھی ہم اپنے رب کی طرف ہی جانے والے ہیں۔اے ہمارے خدا! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں بھلائی اور تقویٰ چاہتے ہیں۔تو ہمیں ایسے نیک عمل کرنے کی توفیق دے جو تجھے پسند ہوں۔اے ہمارے خدا! تو ہی ہمارا یہ سفر آسان کر دے اور اس کی ڈوری کو لپیٹ دے۔“ دوری کو لپیٹ کا مطلب یہ ہے کہ جیسا کہ آپ لوگ بڑی بڑی دور سے ہوائی جہازوں پر بھی آئے ہیں، رستے میں کوئی تکلیف نہ ہو کہ سفر لمبا محسوس ہو۔آتی دفعہ تو آپ کو یہ دعا یاد نہیں تھی لیکن جاتی دفعہ تو یاد ہوگی۔اس لئے جاتی دفعہ کی تکلیفوں سے بچنے کے لئے بھی یہ دعا کریں۔