خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 506 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 506

خطبات طاہر جلد 17 506 خطبہ جمعہ 24 جولائی 1998ء اور بہت لذیذ ہوتا ہے ) جو میں نے آپ صلی السلام کے لئے تیار کیا ہے۔فرمایا لے آؤ۔حضرت عائشہ وہ لائیں تو آنحضرت صلی ا یہ تم نے پکڑا اور برتن کو اپنے منہ کی طرف بلند کیا۔تھوڑا سا نوش کر کے فرما یا بشیر اللہ کر کے پینا شروع کریں۔“ دو باتیں پیش نظر رہنی چاہئیں ایک تو افطار کی وجہ سے تاخیر مناسب نہیں تھی دوسرے دونوں مرتبہ افطار ہو چکا تو پھر بھی حدیدہ لبینة پیتے وقت بھی پہلے اپنے منہ سے لگایا۔یہ لازماً اس غرض سے تھا کہ اس تھوڑے کھانے اور تھوڑے پینے میں برکت پڑ جائے اور ایسا ہی ہوا۔پھر ہم اس طرح پی رہے تھے کہ ہم اسے دیکھ نہیں رہے تھے۔مطلب یہ ہے کہ ان کو خیال تھا کہ تھوڑا سا ہوگا جو ہے وہ پی لیں مگر وہ نہ دیکھنے کے باعث نہ وہ ختم ہو رہا تھا نہ ان کو اس سے اپنے ساتھی کے لئے ہاتھ روکنے پڑے تو چلتا رہا اور ختم نہیں ہوا جب تک سب سیر نہ ہو گئے۔اس کے بعد آنحضور سال کا ریتم خود گھر کی طرف چل پڑے اور پھر گھر سے مسجد کو چلے آئے کیونکہ ہم مسجد میں لیٹے ہوئے تھے۔مسجد میں کہتے ہیں میں تو اوندھے منہ لیٹ کر الٹا پڑ کے سو گیا۔صبح آنحضور صلی للہ یہ تم جب تشریف لائے اور لوگوں کو الصلوة، الصلوة 66 کہہ کر نماز کے لئے بیدار کرنے لگے۔“ یہ بھی ایک سنت ہے کہ مہمانوں کو نماز کے لئے بیدار کرنا چاہئے۔آنحضرت مسیلی یہ تم کا یہ معمول تھا کہ جب آپ مالی ای نام آتے تو لوگوں کو نماز کے لئے اٹھاتے یعنی یہ اس لئے فرما ر ہے تھے کہ آپ صلی یا کہ تم کا دستور تھا کوئی اچانک، اتفاقاً ہونے والا واقعہ نہیں تھا۔” جب میرے پاس سے گزرے تو میں اس وقت اوندھے منہ لیٹا ہوا تھا۔آپ مال اللہ الی یم نے دریافت فرمایا تم کون ہو؟ میں نے عرض کی میں عبد اللہ بن طحفۃ ہوں۔آپ صلی للہ یہ تم فرمانے لگے سونے کا یہ انداز ایسا ہے جسے اللہ عز وجل نا پسند فرماتا ہے۔“ (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة حديث طخفة الغفاري، مسند نمبر : 23616) پس سونے کے متعلق بھی یادرکھیں کہ الٹے پڑ کے سونا مناسب نہیں ہے۔حضور اکرم صلی سیستم دائیں کروٹ لیٹا کرتے تھے، پیٹھ کے بل لیٹنا بھی جائز ہے۔بعض صورتوں میں بائیں طرف کروٹ لینا بھی بعض بیماریوں کی وجہ سے جو دائیں طرف لیٹنے سے بڑھتی ہیں ضروری ہو جاتا ہے۔تو یہ کوئی شرعی