خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 504 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 504

خطبات طاہر جلد 17 504 خطبہ جمعہ 24 جولائی 1998ء نمائندگی ہی میں ان کی میزبانی کا حق ادا کرتا ہے۔پس اس پہلو سے چودہ دن تک ان کے ہاں ٹھہرنا بھی اگر وہ چاہیں، پسند کریں کہ ذاتی طور پر ہمارے ہاں ٹھہر و تو درست ہے۔اگر نہیں تو تین دن کے بعد جماعتی انتظام کی طرف منتقل ہو جائیں۔اس سلسلہ میں یہ یا درکھنا چاہئے کہ جماعتی انتظام کے تحت مختلف آنے والے مہمانوں کے مزاج اور ان کے حالات کے مطابق مختلف انتظامات کئے گئے ہیں مگر بنیادی طور پر ا کرام کا حق ہر ایک کا ہے۔ہر شخص کا اکرام ہونا چاہئے۔ایک اور حدیث مسلم کتاب البر سے لی گئی ہے۔حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ سلیم نے فرمایا: معمولی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھو۔اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے پیش آنا بھی نیکی ہے۔“ (صحیح مسلم ، کتاب البر والصلة باب استحباب طلاقة الوجه عند اللقاء،حدیث نمبر :6690) تو یہ بھی مہمان نوازی کی قسمیں ہیں خواہ آپ کا براہ راست مہمان ہو یا نہ ہو اس سے خندہ پیشانی سے پیش آئیں اور سارے جلسے پر یہ ماحول ہو کہ ہر شخص مسکرا کر اور خندہ پیشانی سے ہر ایک کا استقبال کر رہا ہو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے یہ ابن ماجہ سے لی گئی ہے کہ آنحضرت صلی الہ سلم نے فرمایا: ” جب تمہارے پاس کسی قوم کا سردار یا معزز آدمی آئے تو اس کی حیثیت کے مطابق اس کی عزت و تکریم کرو۔“ (سنن ابن ماجه، کتاب الأدب، باب اذا أتاكم كريم قوم فأكرموه ،حدیث نمبر :3712) یہ میں نے اس لئے بیان کرنا ضروری سمجھا ہے کہ ہمارے بہت سے ایسے مہمان ہیں جو جماعت سے تعلق نہیں رکھتے اور مختلف دنیا کے گوشے گوشے سے آئے ہوئے ہیں۔ان کا جو الگ انتظام ہوتا ہے اور غیر معمولی توجہ دی جاتی ہے کوئی یہ خیال نہ کرے کہ بعض مہمانوں کو تو عام مہمانوں میں شامل کیا گیا ہے بعض سے خاص سلوک ہو رہا ہے۔یہ خاص سلوک حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی لے یتیم کی ہدایت کے مطابق ہوتا ہے اور یہ حدیث اس پر گواہ ہے۔جب کسی قوم کا سردار یا معزز شخص آئے تو اس سے اس کی شان کے مطابق سلوک کرو کیونکہ در اصل وہ اپنی پوری قوم کا نمائندہ ہوتا ہے۔اب اس نے واپس جا کر اس قوم کو بتانا ہے کہ مجھ سے کیا سلوک کیا گیا۔