خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 499
خطبات طاہر جلد 17 وو 499 خطبہ جمعہ 17 جولائی 1998ء وہ یہی انتظام ہے کہ بچے خیر خواہ دین کے اپنی بضاعت اور اپنی بساط کے لحاظ سے ایسی سہل رقمیں ماہواری کے طور پر ادا کرنا اپنے نفس پر ایک حتمی وعدہ ٹھہرا لیں جن کو بشرط نہ پیش آنے کسی اتفاقی مانع کے بآسانی ادا کر سکیں ہاں جس کو اللہ جل شانہ توفیق اور انشراح صدر بخشے وہ علاوہ اس ماہواری چندہ کے اپنی وسعت ہمت اور انداز ہ مقدرت کے موافق یکمشت کے طور پر بھی مدد کر سکتا ہے۔“ (فتح اسلام ، روحانی خزائن جلد 3 صفحات:33 تا34) اب اس سلسلہ میں میں ایک آخری اقتباس ایک دوست کا پڑھ کر سناتا ہوں جو کراچی سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا نام ظاہر کرنا مناسب نہیں ہے۔انہوں نے جب میرے خطبات سنے جو مال سے تعلق میں میں نے امریکہ میں دئے تھے تو ان کو اس بات کا گہرا رنج پہنچا کہ بعض لوگوں کی کمزوری کی وجہ سے مجھے تکلیف پہنچی ہے۔میں نے یہ بھی ذکر کیا تھا کہ بعض ایسے لوگ ہیں جن کے متعلق میں حالات دیکھ کے یہ فیصلہ کر سکتا ہوں کہ ان کا سارا مال ان کو واپس لوٹا دیا جائے کیونکہ جس رنگ میں انہوں نے خرچ کیا ہے مجھے اس سے کراہت آتی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ اس مال کو خدا تعالیٰ کے پاک مال میں شامل کروں۔یہ ذکر جو گزرا تھا اس کے بعد جب میں نے تحقیق کی تو پتا چلا کہ ایسے لوگ اتنے تھوڑے ہیں ، دکھاوے والے لوگ ہی تھے، کہ ان کے مال کو کلیۂ کالعدم سمجھ لیں تب بھی جماعت امریکہ کے اموال پر ایک کوڑی کا بھی فرق نہیں پڑتا۔بلکہ ان خطبات کے بعد جو اطلاعیں آرہی ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی تیزی کے ساتھ جماعت مالی قربانی میں آگے بڑھ رہی ہے۔مگر یہ لفظ ان کو یادر ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ ان کے مال ان کو واپس کر دوں۔ان کے خیال میں اتنے زیادہ مال تھے کہ ان کے لئے مجھے بیرونی مدد کی ضرورت پڑنی تھی۔وہ لکھتے ہیں : میں اپنے آپ کو تمام چندہ واپس کرنے کے لئے پیش کرتا ہوں۔اگر یہ رقم ایک کروڑ تک ہے تو میں خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ رقم اپنے پیارے حضور کی خدمت میں پیش کرسکتا ہوں۔خدا تعالیٰ کی اس جماعت میں خدا کے شیروں اور محمد صلی کیا یہ تم کے فدائیوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔“