خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 498
خطبات طاہر جلد 17 498 خطبہ جمعہ 17 جولائی 1998ء بدل جاتی ہے۔پس یہ ہیں انفاق فی سبیل اللہ والے لوگ جس کے متعلق یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا ” شفقت علی خلق اللہ کی تعلیم اس آیت میں شامل ہے، مِمَّا رَزَقْنُهُمْ يُنْفِقُونَ۔یہ ایک بہت ہی لطیف اقتباس ہے جس میں سے ایک حصہ شروع کا میں ضرور آپ کو سنانا چاہتا ہوں۔فرمایا: اس کے بعد متقی کی شان میں مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ آیا ہے۔یہاں متقی کے لئے منا کا لفظ استعمال کیا، کیونکہ اس وقت وہ ایک اعمی کی حالت میں ہے۔“ منا میں جو توفیق اللہ نے اسے بخش دی ہے یہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بہت ہی لطیف تفسیر ہے۔فرمایا صرف وہی توفیق شامل نہیں بلکہ آئندہ جو توفیق خدا عطا فرمائے گا وہ بھی اس میں داخل ہے۔تو فرمایا اس کی حالت تو ایک اندھے کی سی ہے جسے پتا نہیں کہ میرے لئے آگے کیا بھلائی اور خیر مقد ررکھی گئی ہے۔حق یہ ہے کہ اگر وہ آنکھ رکھتا تو دیکھ لیتا۔ایک اور بھی اندھے کی حالت کا بیان ہے) آنکھ رکھتا تو دیکھ لیتا کہ اس کا کچھ بھی نہیں۔“ یہ دونوں باتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس تحریر میں بیان فرمائی ہیں۔ایک آئندہ جو خدا کے فضل اس پر ہونے والے ہیں ان سے وہ بالکل اندھا ہے، اس کو پتا ہی نہیں کہ کیا ملنے والا ہے۔دوسرا یہ کہ آنکھ ہوتی تو دیکھ لیتا کہ یہ سب اللہ ہی کی عطا ہے اس کا تو کچھ بھی نہیں۔یہ ایک حجاب تھا جو اتقاء میں لازمی ہے۔( یہ اندھا پن کوئی برائی نہیں ہے۔فرمایا:) ایک حجاب تھا جو اتقاء میں لازمی ہے۔اس حالت اتقاء کے تقاضے نے متقی سے خدا کے دئے میں سے کچھ دلوایا۔“ پھر فرماتے ہیں: (رپورٹ جلسہ سالانہ 1897ء مرتبہ یعقوب علی عرفانی صاحب، صفحہ: 46) یادر ہے کہ اصل مدعا جس پر اس سلسلہ کے بلا انقطاع چلنے کی امید ہے۔“ یہ پہلے بھی میں اقتباس آپ کے سامنے کئی دفعہ رکھ چکا ہوں۔اس سلسلے کے بلا انقطاع چلنے کی امید ہے۔“ یہ سلسلہ بغیر کسی روک ٹوک کے ہمیشہ جاری رہے اور نیکیوں میں ترقی کرتا چلا جائے یہ مراد ہے بلا انقطاع۔