خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 497 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 497

خطبات طاہر جلد 17 497 ہاں تم پر یہ اس کا فضل ہے کہ تم کو خدمت کا موقع دیتا ہے۔“ خطبہ جمعہ 17 جولائی 1998ء ( مجموعہ اشتہارات جلد سوم ،صفحہ:498،497) انفاق فی سبیل اللہ کی اہمیت کے متعلق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: میں پھر اصل بات کی طرف رجوع کر کے کہتا ہوں کہ دولت مند اور متمول لوگ دین کی خدمت اچھی طرح کر سکتے ہیں۔( یعنی پہلی باتوں سے یہ شبہ نہ گزرے کہ دولت مند دھتکارے ہوئے لوگ ہیں ان کو توفیق مل ہی نہیں سکتی ہے )۔۔۔مِمَّا رَزَقْنُهُم يُنْفِقُونَ (البقرة: 4) متقیوں کی صفت کا ایک جزو قرار دیا ہے۔یہاں مال کی کوئی خصوصیت نہیں ہے۔جو کچھ اللہ تعالیٰ نے کسی کو دیا ہے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔مقصود اس سے یہ ہے کہ انسان اپنے بنی نوع کا ہمدرد اور معاون ہے۔اللہ تعالیٰ کی شریعت کا انحصار دو ہی باتوں پر ہے تعظیم لامر اللہ اور شفقت علی خلق اللہ۔پس مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ میں شفقت علی خلق اللہ کی تعلیم ہے۔“ 66 الحکم جلد 4 نمبر 30 صفحہ : 3 مؤرخہ 24 اگست 1900ء) جہاں خدا کی راہ میں مالی قربانیاں کرتے ہیں اس کے سوا اس بات کو بھی نہ بھلا ئیں کیونکہ یہ بھی متا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُونَ کے اندر شامل بات ہے کہ جب خدا کی خاطر خرچ کرتے ہیں تو اس کے بندوں کے لئے بھی نرم گوشہ اختیار کریں اور اس طرح قوم کو وحدانیت کا سبق دیں۔ہر وہ شخص جو واقعہ تقویٰ کی خاطر اپنی زندگی بسر کرتا ہے وہ اپنے بھائی سے خواہ وہ غریب بھی ہو ، محروم بھی ہو ، کئی قسم کی کمزوریوں میں مبتلا ہو اس سے نفرت نہیں کرتا بلکہ اس کے لئے دل میں ہمدردی کے سوا اور کوئی جذبات نہیں پاتا۔اگر کچھ نہیں کر سکتے تو دل کی گہرائی سے کلمہ خیر کہو۔بعض لوگ یہ کلمہ خیر کہتے تو ہیں مگر اس کا مطلب کچھ اور ہوتا ہے۔امیر آدمی جو اپنے مال کو چھپائے ہوئے ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں جاؤ اللہ تمہارا بھلا کرے۔مطلب ہے ہمارا پیچھا چھوڑو۔اللہ بھلا کرے کی دعا محض منہ سے نکلی ہوئی دعا ہوتی ہے لیکن کچھ لوگ دکھ محسوس کرتے ہیں کہ ہم کچھ دے نہیں سکے۔وہ جب کہتے ہیں کہ اللہ تمہارا بھلا کرے تو یہ دعا عرش کے کنگرے ہلا دیا کرتی ہے اور اس کے نتیجے میں بعض غریبوں کی تقدیر