خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 496 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 496

خطبات طاہر جلد 17 496 خطبہ جمعہ 17 جولائی 1998ء کیونکہ مال خود بخود نہیں آتا بلکہ خدا کے ارادہ سے آتا ہے۔پس جو شخص خدا کے لئے بعض حصہ مال کا چھوڑتا ہے وہ ضرور اسے پائے گالیکن جو شخص مال سے محبت کر کے خدا کی راہ میں وہ خدمت بجا نہیں لاتا جو بجالانی چاہئے تو وہ ضرور اس مال کو کھوئے گا۔یہ مت خیال کرو کہ مال تمہاری کوشش سے آتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور یہ مت خیال کرو کہ تم کوئی حصہ مال کا دے کر یا کسی اور رنگ سے کوئی خدمت بجالا کر خدا تعالیٰ اور اس کے فرستادہ پر کچھ احسان کرتے ہو بلکہ یہ اس کا احسان ہے کہ تمہیں اس خدمت کے لئے بلاتا ہے اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر تم سب کے سب مجھے چھوڑ دو اور خدمت اور امداد سے پہلو تہی کرو تو وہ ایک قوم پیدا کر دے گا کہ اس کی خدمت بجالائے گی۔تم یقیناً سمجھو کہ یہ کام آسمان سے ہے اور تمہاری خدمت صرف تمہاری بھلائی کے لئے ہے۔“ یہ ہے خلاصہ مضمون۔جس شخص کو بھی مالی خدمت یا نفس کی خدمت یا جسمانی خدمت یاد مافی خدمت کی توفیق ملتی ہے وہ یادر کھے کہ یہ اللہ کے احسان سے ہے اور احسان کے نتیجہ میں شکر گزار ہونا چاہئے نہ کہ احسان جتانے لگے۔تو مومن کے دل میں دین کی خدمت کے بعد کسی احسان جتانے کا گمان تک نہیں گزرتا۔اگر حقیقی عارف ہے تو ضرور سمجھتا ہے کہ ہمیں توفیق مل گئی بہتوں کو نہیں ملی۔کتنا بڑا اللہ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں چن لیا ہے اس خدمت کے لئے۔اس لئے فرمایا کہ یہ نہ سمجھو کہ تم میرے لئے ضروری ہو۔فرمایا میں تمہارے لئے ضروری ہوں۔میری دین کی خاطر خدمت کرتے ہو تو اللہ کی پیار کی نظریں حاصل کرتے ہو۔اس لئے تم میرے لئے ضروری نہیں، میں تمہارے لئے ضروری ہوں۔اور اس کا ثبوت ایک یہ ہے کہ اگر تم سارے مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ تو خدا مجھے نہیں چھوڑے گا اور میری ساری ضرورتیں پوری کرے گا اور ایسی قوم لے آئے گا جو قوم مالی خدمات اور جسمانی اور دینی اور قلمی اور روحانی خدمات میں تم سے پیچھے نہیں رہے گی۔تم یقیناً مجھو کہ یہ کام آسمان سے ہے اور تمہاری خدمت صرف تمہاری بھلائی کے لئے ہے۔پس ایسا نہ ہو کہ تم دل میں تکبر کرو اور یا یہ خیال کرو کہ ہم خدمت مالی یا کسی قسم کی خدمت کرتے ہیں۔میں بار بار تمہیں کہتا ہوں کہ خدا تمہاری خدمتوں کا ذرا محتاج نہیں،