خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 494
خطبات طاہر جلد 17 494 خطبہ جمعہ 17 جولائی 1998ء کہ کچھ عرصہ کے بعد یہ بات عام ہوگئی۔لوگوں نے ایک دوسرے سے باتیں کیں اور یہ بات امیروں کو بھی پتا چل گئی کہ اس طرح تو بہت جزا ملتی ہے انہوں نے بھی اپنے غریب بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر تسبیح و تحمید شروع کر دی۔اس پر غریب بھائیوں کو ایک قسم کا رشک آیا۔انہوں نے کہا اوہو یہ تو ہمارے ساتھ شامل ہو گئے خرچ کی جزا بھی پائیں گے اور بے خرچ کی جزا بھی پائیں گے۔آنحضرت صلی الا یہ تم سے شکایت کی اس رنگ میں کہ ان کو روکیں وہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہو کر ہمارے حصہ میں سے حصہ بٹا رہے ہیں۔آنحضرت صلی ہی ہم نے فرما یا نہیں ان کو نہیں میں روکوں گا جن کو خدا دوہرے اجر کی توفیق عطا فرماتا ہے میں کیسے روک دوں۔(صحیح مسلم ، کتاب المساجد ومواضع الصلواة، باب استحباب الذكر بعد الصلوة -- حدیث نمبر : 1347) تو جماعت کے امراء کو چاہئے کہ اس بات پر بھی نظر رکھیں، کوشش کریں کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے میں پہلے سے بڑھتے رہیں اور غریبوں کی ان نیکیوں میں سے بھی حصہ پائیں جو مال نہ دینے کی وجہ سے یا نہ دینے کی محرومی کے احساس سے عملاً ذکر الہی یا دوسری نیکیوں میں زیادہ حصہ لیتے ہیں۔اس سے ان کو دوہرا اجر نصیب ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس عادت سے ان کی اولادوں کے مقدر چمک اٹھیں گے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام عبدالحق خلف عبدالسمیع صاحب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میں سچ سچ کہتا ہوں کہ دولت مندوں میں ایسے لوگ بہت کم ہیں کہ اس سعادت کا عشر بھی حاصل کر سکیں جس کو غریب لوگ کامل طور پر حاصل کر لیتے ہیں۔“ یہ امر واقعہ ہے کہ دولتمندوں میں یہ لوگ بہت کم ہوتے ہیں مگر اگر ہوں تو ان کا نصیبہ دنیا میں بھی جاگ اٹھتا ہے اور آخرت میں بھی۔فطوبى للغرباً ( بڑی خوشی کی بات ہے۔خوشخبری ہے غرباء کے لئے ) میاں عبدالحق باوجود اپنے افلاس اور کمی مقدرت کے ایک عاشق صادق کی طرح محض اللہ خدمت کرتا رہتا ہے اور اس کی یہ خدمات اس آیت کا مصداق اس کو ٹھہرا رہی ہیں۔يُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ - (الحشر :10) (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ :537)