خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 488 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 488

خطبات طاہر جلد 17 488 خطبہ جمعہ 17 جولائی 1998ء جنہوں نے سینوں کو جکڑ رکھا ہے مگر ہر شخص جو کچھ خرچ کرتا ہے اس کے حلقے ڈھیلے ہو جاتے ہیں اور اس طرح آہستہ آہستہ وہ قمیص کھل جاتی ہے کوئی بھی پھر تنگی نہیں رہتی۔دنیا کی قربانیاں ہوں یا دین کی قربانیاں ہوں دونوں میں وہ خرچ کرتا ہے اور اس خرچ سے لذت پاتا ہے، شرح صدر نصیب ہو جاتا ہے اور آخر کار وہ اس کی جکڑ سے آزاد ہو جاتا ہے۔دو لیکن بخیل کو وہ قمیص جکڑتی چلی جاتی ہے اور اس طرح اس کی گرفت بڑھتی جاتی ہے۔“ (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الحصاحبة مسند أبي هريرة، مند نمبر : 7483) تمام بخیلوں کا یہی حال ہے۔جتنا بخل میں آگے بڑھتے ہیں اتنا بخل ان کے سینوں کوتنگ کرتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اس حال میں مرتے ہیں کہ جو کچھ بخل کر کر کے اکٹھا کیا سارا دنیا میں پیچھے کے لئے چھوڑ جاتے ہیں اور حساب لینے والے فرشتوں کے سوا اور کچھ نہیں پاتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: (خدا) ایسے لوگوں کو نہیں چاہتا جو بخیل ہیں اور لوگوں کو بخل کی تعلیم دیتے ہیں اور اپنے مال کو چھپاتے ہیں۔( يَكْتُبُونَ والی بات وہی ہے جو مسیح موعود علیہ السلام یہاں بیان فرمارہے ہیں ) یعنی محتاجوں کو کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کچھ ( بھی ) نہیں ہے۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحه : 358) پھر ریا کاروں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: خوش قسمت وہ ہے انسان جو ریا سے بچے۔اور جو کام کرے وہ خدا (تعالی) کے لئے کرے۔ریا کاروں کی حالت عجیب ہوتی ہے خدا ( تعالی ) کے لئے جب خرچ کرنا ہو تو وہ کفایت شعاری سے کام لیتا ہے لیکن جب ریا کا موقع ہوتو پھر ایک کی بجائے سو دیتا ہے اور دوسرے طور پر اسی مقصد کے لئے دو کا دینا کافی سمجھتا ہے۔( یعنی جہاں ریانہ ہو وہاں سو کی بجائے ، جہاں سو دینے کا وقت ہوگا، وہ صرف دو دے گا) اس لئے اس مرض سے بچنے کی دعا کرتے رہو۔“ (الحکم جلد 10 نمبر 27 صفحہ:3 مؤرخہ 31 جولائی 1906ء)