خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 489 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 489

خطبات طاہر جلد 17 489 خطبہ جمعہ 17 جولائی 1998ء اپنے ایک صحابی کا ذکر خیر فرماتے ہیں اور آپ ہی کے الفاظ میں میں یہ بیان کرتا ہوں : حبی فی اللہ سید عبدالہادی صاحب اور سیر۔یہ سید صاحب انکسارا اور ایمان اور حسن ظن اور ایثار اور سخاوت کی صفت میں حصہ وافر رکھتے ہیں۔وفادار اور متانت شعار ہیں۔ابتلاء کے وقت استقامت کو ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔وعدہ اور عہد میں پختہ ہیں۔حیا کی قابل تعریف صفت اُن پر غالب ہے۔“ پس وہ لوگ جو ریا سے کام نہیں لیتے ان میں حیا ضرور ہوتی ہے اور یہ اللہ کا احسان ہے اگر کسی شخص میں حیا پائی جائے تو وہ اپنی نیکی سے حیا کرتا ہے اور جس میں حیاء نہ ہو وہ بدی سے بھی حیا نہیں کرتا یا بدی کو چھپانے میں بعض دفعہ حیا سے کام لیتا ہے تو صفت ایک ہی ہے لیکن دو طرح سے اپنا رنگ دکھاتی ہے۔فرمایا: ” حیا کی قابل تعریف صفت ان پر غالب ہے۔‘ قابل تعریف پر جوزور ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ حیا کی بعض دفعہ قابل مذمت صفت بھی ہوا کرتی ہے۔اس عاجز کے سلسلۂ بیعت میں داخل ہونے سے پہلے بھی وہی ادب ملحوظ رکھتے تھے جو اب ہے۔اللہ جل شانہ کا ان پر یہ خاص احسان ہے کہ وہ نیک کاموں کے کرنے کے لئے منجانب اللہ توفیق پاتے ہیں۔ان کی طبیعت فقر کے مناسب حال ہے۔انہوں نے اس سلسلہ کے لئے دوروپے ماہواری چندہ مقرر کیا ہے۔“ اب دورو پے اُس زمانہ میں بہت بڑی رقم ہوا کرتی تھی لیکن وہ دورو پے جو ماہواری چندہ مقرر کیا تھاوہ تو حساب میں آجاتا ہے لوگ دیکھتے بھی تھے حیا کی صفت ان کی کیا تھی یہ اس کے آگے بیان ہے۔مگر اس چندہ پر کچھ موقوف نہیں وہ بڑی سرگرمی سے خدمت کرتے رہتے ہیں اور ان کی مالی خدمات کی اس جگہ تصریح مناسب نہیں۔“ کیونکہ وہ مالی خدمات جو دو روپے ظاہر کے علاوہ چھپ کر کرتے ہیں وجہ یہ ہے کہ وہ چھپانا چاہتے ہیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے غلاموں کے دل کے حال پر بڑی باریک نظر رکھا کرتے تھے۔فرمایا: اس جگہ تصریح مناسب نہیں کیونکہ میں خیال کرتا ہوں کہ ان کی مالی خدمات کے اظہار سے ان کو رنج ہو گا۔(ایسے بھی ہیں جن کو دکھ ہوتا ہے اس بات سے کہ ان کی مالی خدمات