خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 484
خطبات طاہر جلد 17 484 خطبہ جمعہ 17 جولائی 1998ء الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ ایک قسم یہ ہے کہ وہ لوگ بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کی تعلیم دیتے ہیں۔وَ يَكْتُمُونَ مَا الهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِہ اور چھپاتے ہیں اس کو جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمایا وَ اعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا اور ہم نے کافروں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔اب یہ لوگ بظاہر مومن ہیں ورنہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، نہ اس کی تعلیم دیتے کہ کچھ کم خرچ کیا کرو مگر اللہ کے نزدیک ان کا مرتبہ کافروں کا سا ہے۔فی الحقیقت خدا کی نظر میں یہ کافر ہیں اور ایسے کا فر ہیں جن کے لئے رسوا کن عذاب مقدر کیا گیا ہے۔یہ کون لوگ ہیں، کیوں ایسا کرتے ہیں؟ امر واقعہ یہ ہے کہ وہ شخص جو خسیس ہو ، دل کا کنجوس ہو، اس میں بعض دفعہ اپنے نفس پر تنگی کا رجحان بھی غالب ہوتا ہے یعنی خسیس ہر قسم کے ہیں کچھ ایسے بھی ہیں جو دکھاوے کے لئے بہت خرچ کرتے ہیں ان کا بعد میں ذکر آئے گا۔کچھ ایسے بھی ہیں جو بڑے بڑے محلات میں رہتے ہیں اور اس بات سے نہیں ڈرتے کہ لوگ سمجھیں گے کہ وہ امیر ہیں مگر کچھ خسیس ایسے ہیں جو اپنے حالات پر اپنی طرف سے تنگی وارد کرتے ہیں۔وہ اتنے کنجوس ہوتے ہیں کہ اپنے اوپر بھی خرچ نہیں کر سکتے اور جب دیکھتے ہیں کہ اور بھی لوگ ہیں جو اپنے اوپر خرچ کرتے ہیں اور ان کی بظاہر مالی حالت ان جیسی ہی ہوتی ہے تو ڈرتے ہیں کہ ان کی یہ کمزوری تنگی نہ ہو جائے اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ ایسے لوگ بھی ان جیسا ہی رویہ اختیار کریں۔پس یہ وہ لوگ ہیں جو بخل کرتے بھی ہیں اور بخل کی تعلیم بھی دیتے ہیں۔لوگوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ دیکھو تم کیا اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہو۔تم کھلے ہاتھوں سے خرچ کرتے ہو، تمہارا روپیہ کم ہو جائے گا اور سب لوگوں کو پتا چل جائے گا کہ تمہارے پاس پیسہ ہے پھر بھکاری اور فقیر لوگ تمہاری طرف دوڑے چلے آئیں گے تو عقل سے کام لو اور اپنے گھر یلو حالات میں تنگی اختیار کرو۔اس غرض سے یہ ان کو حکم دیتے ہیں وَ يَكْتُمُونَ مَا الهُمُ اللهُ مِن فَضْلِہ اور اس مال کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں جو اللہ نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمایا ہے۔اگر یہ بخل نہ کریں تو یہ مال سب کو نظر آنے لگ جائے گا تو رہتے غریبوں کی طرح ہیں اور اپنے اموال کو بہت چھپا کے رکھتے ہیں حالانکہ اللہ نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمایا تھا۔جو اللہ نے اپنے فضل سے عطا فرمایا ہو اس سے یہ ناشکری کا سلوک