خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 478 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 478

خطبات طاہر جلد 17 478 خطبہ جمعہ 10 جولائی 1998ء نہیں ہوسکتی اور اس بات میں Unique کہنے میں ان کی وجہ یہ تھی کہ جس درد کے ساتھ ، دعاؤں کے ساتھ اور نغمات کے ساتھ میں نے اس کو رخصت کیا اس نے ایک عجیب سماں بنا دیا تھا۔ایسا سماں بنادیا تھا جس سے جماعت بے انتہا متاثر تھی لیکن حقیقت حال نہیں جانتی تھی۔وہ سمجھ رہے تھے میں اس لئے رورہا ہوں ، اس لئے میرا دل قابو سے نکلا جا رہا ہے کہ میری بچی رخصت ہو رہی ہے اور دوسرے ملک میں جارہی ہے۔ایک ذرہ بھی اس کا سچا نہیں ہے۔جہاں مرضی جاتی اگر خدا کی طرف سے مجھے یقین ہوتا کہ یہ رشتہ اچھا ہے تو ناممکن تھا کہ میں اس کرب و بلا کا اظہار کرتا جو مجھ سے ہوا۔پس ان نغمات نے جو تاثر پیدا کیا اس کی وجہ سے سب دنیا سے خط آ رہے تھے اور جب یہ بھنک سی پھیلی ہے پھر اس کا ذکر بند ہو گیا مگر وہ ویڈیوز لوگوں کے پاس محفوظ ہیں۔بڑا عجیب نظارہ ہے، بچیاں خوشی سے گیت گا رہی ہیں اور ان گیتوں سے خوش ہونے کی بجائے میں اور زیادہ رنجیدہ ہوتا چلا جارہا ہوں اور پھر خصوصیت سے جو میرا دعائیہ کلام تھا اس نے لوگوں پر بہت اثر کیا۔اس دعائیہ کلام میں میں نے دعا دی کہ تم اس گھر میں راج کرتی تھی اس گھر میں بھی راج کرو، ان کی بھی رانی بنی رہو جیسے اس گھر کی رانی تھی۔میں نے اس میں کہا ، اے آصفہ کی جان خدا حافظ و ناصر۔تو اس کی میں نے مرحوم ماں کا حوالہ دے کر سوچا کہ شاید اس طرح اللہ تعالیٰ رحم فرما دے لیکن یہ کوئی حوالے کام نہیں آئے ، نہ آنے چاہئے تھے کیونکہ جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے خدا کے نزدیک یہ غلط بات ہو رہی تھی اس لئے جو مرضی میں حوالے دیتا، جتنی دردناک نظمیں لکھتا ان کا کوڑی کا بھی اثر نہیں پڑنا تھا۔تو وہ نظم اپنی جگہ آپ بے شک سنیں لیکن اس نتیجہ کو یا درکھیں کہ اس نظم میں جن امیدوں کا اظہار کیا گیا تھا وہ کسی بات پر مبنی نہیں تھیں۔اگر وہ اللہ کی طرف سے خوشخبریوں پر مبنی ہوتیں تو لازماً پوری ہونی تھیں۔وہ خوشخبریوں پر مبنی نہیں تھیں اس لئے نہیں پورا ہونا تھا۔اس لئے پہلے دن سے لے کر آخر تک، حیرت انگیز بات ہے رخصت کے وقت تک میں اس خاندان کی منتیں کرتا رہا کہ خدا کے لئے اس بچی کو نہ مانگو کیونکہ میرے دل میں اللہ نے یقین ڈال دیا ہے کہ یہ رشتہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔فائلیں بھری پڑی ہیں میرے پاس۔سب سے پہلے جب ( رشتہ ) تجویز ہوا تو میں نے منت کی کہ خدا کے لئے اس بچی کو نہ لے کے جاؤ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ناممکن ہے کہ یہ کامیاب ہو تو کیوں اس بیچاری کو خراب کرتے ہو۔وہ یہی اصرار کرتے رہے بلکہ مجھ پر جو دباؤ ڈالا جا رہا تھا وہ