خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 37
خطبات طاہر جلد 17 37 خطبہ جمعہ 16 جنوری 1998ء اگر روزہ میں نمازیں سنور جائیں تو روزہ نماز کا معراج اور نمازیں روزہ کا معراج بن جاتی ہیں (خطبه جمعه فرموده 16 جنوری 1998ء بمقام بيت الفضل لندن ) b تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقرة: 187) پھر فرمایا: اس آیت کریمہ سے متعلق خطبات کا سلسلہ جاری ہے اور ترجمہ اس کا پھر میں دہراتا ہوں کہ جب تجھ سے ( یعنی اے محمد رسول اللہ صلی تم میرے بندے سوال کریں میرے بارے میں۔فَإِنِّي قَریب میں قریب ہوں۔اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ میں پکارنے والے کی پکار کوسنتا ہوں جب وہ مجھے بلائے۔فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ پس چاہئے کہ وہ میری باتوں کی استجابت میں جلدی کریں کیونکہ میں قریب ہوں اس لئے یہ معنی اس میں شامل ہیں کہ وہ بھی میری استجابت میں یعنی میری باتوں کا ہاں میں جواب دینے میں اور ان پر عملدرآمد میں جلدی کریں۔وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ اور مجھ پر ایمان لائیں تا کہ وہ ہدایت پا جائیں۔یہ جو دن ہیں رمضان کے ، آج کل کے دن یہ اب تیزی سے گزر رہے ہیں اور رمضان اپنے اواخر کی طرف الٹ پڑا ہے۔اس پہلو سے اس جلدی کا مضمون اور بھی زیادہ واضح ہو جانا چاہئے کہ یہ دن اب تھوڑے ہیں