خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 36 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 36

خطبات طاہر جلد 17 36 خطبہ جمعہ 9 جنوری 1998ء اور اس طرح روزہ دار کے اموال بڑھیں گے اور یہ ہمارا مشاہدہ ہے کہ یہ وعدہ اخروی وعدہ نہیں یا محض اخروی وعدہ نہیں۔اس دُنیا میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جولوگ خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے اموال میں مرنے کے بعد نہیں بلکہ اس دُنیا میں بھی لازماً برکت پڑتی ہے لیکن یہ تجارت اور تجارت ہے، یہ قرضہ حسنہ سے تعلق رکھنے والی تجارت ہے جس کا مضمون میں نے پہلے بیان کیا ہے۔پس آپ صلی للہ ایسی تم خدا کی راہ میں خرچ کرنے میں بہت زیادہ تیز ہواؤں سے بھی بڑھ کر تیز ہو جایا کرتے تھے۔یوں بیان کیا گیا ہے کہ عام ہوا میں جب چلتی ہیں نرم رووہ جھکڑ میں تبدیل ہو جا ئیں تو بڑے زور سے تیزی کے ساتھ نیکیوں میں تیزی یوں محسوس ہو جیسے آپ آج کل ہواؤں میں دیکھ رہے ہیں عام ہوا چل رہی ہے بڑی اچھی اچھی ، تیز چل رہی ہے۔بعض دفعہ اتنے زور سے چلتی ہے کہ آپ کو دھکا پڑتا ہے پیچھے سے۔تو یہ وہ دھکے والی ہوائیں ہیں جو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا اسلوب سکھاتی ہیں کہ رمضان میں اس طرح خرچ کرو جیسے تمہارے اندر وہ جھکڑ چل پڑیں اور تم خدا کی خاطر خرچ کرتے ہوئے گویا دھکے کھاتے کھاتے آگے بڑھ رہے ہو۔یہ وہ مضمون ہے جس کے متعلق رسول اللہ صلیم فرماتے ہیں کہ ایسا کرو گے تو یاد رکھو تمہارے اموال میں بہت برکت پڑے گی۔اب اس کے ساتھ وقت ختم ہورہا ہے۔