خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 475
خطبات طاہر جلد 17 475 خطبہ جمعہ 10 جولائی 1998ء اگر تو بہ منظور نہیں ہوتی تو گویا یہ مطلب بنا کہ انسانی اعمال ہی بے داغ ہیں اور اپنے اعمال کے زور سے وہ بچ سکتا ہے۔دیکھیں چھوٹی سی بات میں کتنی گہری حکمت کی بات مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرمارہے ہیں۔وو یہ مت کہو کہ تو بہ منظور نہیں ہوتی۔یاد رکھو کہ تم اپنے اعمال سے کبھی بچ نہیں سکتے۔ہمیشہ فضل بچاتا ہے ، نہ اعمال۔“ ہمیشہ فضل بچاتا ہے، نہ اعمال یہ اس سارے مضمون کی جان ہے اور یہی وہ مرکزی نکتہ ہے جس کو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی لا رہی تم ہمیشہ بیان فرماتے رہے اپنے متعلق بھی یہی فرمایا کہ مجھے بھی فضل ہی بچائے گا اعمال نہیں بچاسکتے۔”اے خدائے تریم و رحیم ! ہم سب پر فضل کر کہ ہم تیرے بندے اور تیرے آستانہ پر 66 گرے ہیں۔آمین۔“ لیکچر لاہور ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ :174) اب جو تھوڑا سا وقت باقی ہے اس میں میں ایک ایسی بات کہنی چاہتا ہوں جو بظاہر تأسف پیدا کرنے والی بات ہے مگر میں جماعت کو تنبیہ کرتا ہوں کہ جب تک اس مضمون کو میں آخر تک کھول کر وضاحت سے بیان نہ کر دوں وہ کوئی جلدی میں ایسا نتیجہ نہ نکالیں کہ جس سے وہ سمجھیں کہ اوہو یہ تو بہت فکر والی اور تأسف والی بات ہے جو آج ہمارے سامنے بیان کی جارہی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ ہرگز اس میں تأسف کی کوئی بات نہیں ہے۔آخر تک جب میں پہنچوں گا تو آپ حیران ہوں گے کہ یہ خوشخبری ہے اور بہت بڑی خوشخبری ہے لیکن اس خوشخبری کو بیان کرنے کا موقع کیوں پیش آیا؟ یہ ساری وضاحت میں آپ کے سامنے رکھوں گا اور اللہ تعالیٰ کی یہ مجھ پر امانت ہے جو مجھے بہر حال ادا کرنی ہے اور جماعت کی بھی امانت ہے جو مجھے بہر حال ادا کرنی ہے۔اللہ تعالیٰ کی امانت خصوصیت سے اس لئے کہ جماعت پر جب میں بات واضح کروں گا تو یہ بات کھل جائے گی کہ ان کے دل میں یہ بدظنی پیدا ہو سکتی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے میری انتہائی دردانگیز اور عاجزانہ دعاؤں کو بالکل نہیں سنا اور اس کے برعکس نتیجہ پیدا کر دیا۔جب میں بات کھولوں گا اس سے پہلے اپنے اظہار ہمدردی کو سنبھال کر رکھیں۔جب بات کھل جائے گی تو آپ حیران ہوں گے کہ بالکل بر عکس معاملہ ہے اور مجھے بہر حال یہ مضمون جو میرے لئے بیان کرنا جذباتی لحاظ سے مشکل ہے، بیان کرنا ہے کیونکہ یہ میری ذمہ داری ہے۔