خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 472 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 472

خطبات طاہر جلد 17 472 خطبہ جمعہ 10 جولائی 1998ء اسی وقت اپنی کمزوری پر اطلاع پا جاتے ہیں کہ ہم کیسے عاجز اور کمزور بندے ہیں اور جب تک ان کمزوریوں کو دور نہیں کریں گے جن کی بنا پر یہ گناہ سرزد ہوتا ہے اس وقت تک ہم حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی توقع رکھ سکتے ہیں مگر یقین نہیں کر سکتے کہ ہمیں بخشا جائے گا۔یہ احساس پیدا ہوتا ہے۔یہی قانون ہے جو انسان کے لئے مقرر کیا گیا ہے اور اسی کو انسانوں کی فطرت چاہتی ہے۔سہو ونسیان انسانی فطرت کا خاصہ ہے، فرشتہ کا خاصہ نہیں۔پھر وہ قانون جوفرشتوں کے متعلق ہے انسانوں میں کیونکر نافذ ہو سکے۔“ کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحه : 36) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” یادر ہے کہ انسان کی فطرت میں اور بہت سی خوبیوں کے ساتھ یہ عیب بھی ہے کہ اس سے بوجہ اپنی کمزوری کے گناہ اور قصور صادر ہو جاتا ہے اور وہ قادر مطلق جس نے انسانی فطرت کو بنایا ہے اس نے اس غرض سے گناہ کا مادہ اس میں نہیں رکھا کہ تا ہمیشہ کے عذاب میں اس کو ڈال دے بلکہ اس لئے رکھا ہے کہ جو گناہ بخشنے کا خلق اس میں موجود ہے اس کے ظاہر کرنے کے لئے ایک موقع نکالا جائے۔“ اب جو گناہ بخشنے کا خلق اللہ تعالیٰ میں موجود ہے اس کے ظاہر کرنے کا ایک موقع نکالا جائے۔یہ مضمون ایسا الجھا ہوا ہے کہ اس کے اوپر آریوں کے ساتھ اور دیگر مذاہب کے سر کردہ سر براہوں کے خلاف جنہوں نے اسلام پر حملے کئے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بہت کچھ لکھا اور ایک با قاعدہ جہاد ان کے خلاف شروع کیا اور ساری عمر جاری رکھا اور یہ مسئلہ ایسا ہے جس کو یہاں کھولنے کی ضرورت ہے۔اللہ کا اگر گناہ بخشنے کا خلق نہ ہوتا تو پھر آریوں کی یہ بات درست تھی کہ اللہ بخش ہی نہیں سکتا اور عیسائیوں کا یہ خیال بھی درست ثابت ہوتا کہ اللہ بخش نہیں سکتا۔اس کے مقابل پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قرآنی تعلیمات کی روشنی میں یہ اصرار فرماتے رہے کہ اللہ بخشنے پر قادر ہی نہیں بلکہ بخشنا اس کا خلق ہے اور یادر ہے کہ یہ خلق اگر خدا کا نہ ہوتا تو بندوں میں خدا کی صفات کیسے ودیعت ہوتیں۔اگر بندہ بخش سکتا ہے تو اس کے بخشنے کی صفت آئی کہاں سے ہے؟ اور یہ ظاہر بات ہے کہ بندہ بخش سکتا ہے۔ساری دنیا میں ایک عام تجربہ ہے کہ انسان جس کو بخشنا چاہے بخش