خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 471
خطبات طاہر جلد 17 471 خطبہ جمعہ 10 جولائی 1998ء فرشتوں کے متعلق آپ کو سارے قرآن کریم میں یا احادیث میں کہیں یہ معلوم نہیں ہوگا، یہ ذکر نہیں ملے گا کہ فرشتے نیکیوں میں ترقی کر رہے ہیں۔وہ جس نور سے بندھے ہوئے مامور ہیں وہی نور ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا۔اس میں ایک ذرہ بھی وہ اضافہ نہیں کر سکتے۔”دوسرا قانون وہ ہے جو انسانوں کے متعلق ہے یعنی یہ کہ انسانوں کی فطرت میں یہ رکھا گیا ہے کہ وہ گناہ کر سکتے ہیں مگر نیکی میں ترقی بھی کر سکتے ہیں۔یہ دونوں فطرتی قانون غیر متبدل ہیں اور جیسا کہ فرشتہ انسان نہیں بن سکتا ایسا ہی انسان بھی فرشتہ نہیں ہوسکتا۔یہ دونوں قانون بدل نہیں سکتے ، از لی اور اٹل ہیں اس لئے آسمان کا قانون زمین پر نہیں آسکتا اور نہ زمین کا قانون فرشتوں کے متعلق ہو سکتا ہے۔انسانی خطا کاریاں اگر تو بہ کے ساتھ ختم ہوں، تو وہ انسان کو فرشتوں سے بہت اچھا بنا سکتی ہیں کیونکہ فرشتوں میں ترقی کا مادہ نہیں۔انسان کے گناہ تو بہ سے بخشے جاتے ہیں اور حکمت الہی نے بعض افراد میں سلسلہ خطا کاریوں کا باقی رکھا ہے۔“ یہ وہی مضمون ہے جس کے متعلق میں نے پہلے تنبیہ کی تھی کہ خوف یہ ہے کہ تو بہ تو کر لواور پھر اسی گناہ میں یا اس سے ملتے جلتے یا کسی اور گناہ میں مبتلا ہو جاؤ۔فرمایا : ” اور حکمت الہی نے بعض افراد میں اور اس میں بعض افراد خاص طور پر پیش نظر رہنے چاہئیں۔بعض افراد تو ایسے ہوتے ہیں کہ عزم صمیم کے ساتھ جب ایک دفعہ تو بہ کر لیں تو پھر پہلے گناہوں کی طرف منہ کبھی نہیں کرتے مگر بکثرت میں جانتا ہوں ایسے انسان موجود ہیں جو تو بہ تو سچی کرتے ہیں ندامت و پشیمانی میں تو کوئی شک نہیں مگر بعض عناصر کی وجہ سے جو بعض دفعہ وراثتاً ان کو ملتے ہیں، بعض دفعہ بیماریوں کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں، بعض دفعہ بعض گناہوں کا عادی ہو جانے کے بعد ان عادتوں کو چھوڑ نا ان کے لئے ممکن نہیں رہتا۔ان سب کا ذکر ہے جواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں۔حکمت الہی نے بعض افراد میں سلسلہ خطا کاریوں کا باقی رکھا ہے تاوہ گناہ کر کے اپنی کمزوری پر اطلاع پاویں۔“ جب گناہ سرزد ہو ندامت اور پشیمانی دوبارہ آجائے ایسا گناہ جس میں ندامت اور پشیمانی نہ ہو وہ گناہ تو انسان کو ہلاک کر دیتا ہے اس کا ذکر نہیں چل رہا۔فرمایا کہ جب گناہ میں دوبارہ مبتلا ہوتے ہیں