خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 470 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 470

خطبات طاہر جلد 17 470 خطبہ جمعہ 10 جولائی 1998ء حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت مصلایی تم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ : 66 گناہ سے سچی توبہ کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے اس نے کوئی گناہ ہی نہیں کیا۔“ پھر فرما یا جب اللہ تعالیٰ کسی انسان سے محبت کرتا ہے۔اب یہاں دوڑ کر چلنا، چل کر آنا اور اس کو واپس پا کر خوش ہونا یہ اس مضمون کو ظاہر کر رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس سے محبت ہوگئی ہے۔جو اس کی خاطر کچھ قربانی کرتا ہے اللہ اس قربانی سے بہت بڑھ کر اس سے پیار کرنے لگتا ہے۔فرمایا: ” جب اللہ تعالیٰ کسی انسان سے محبت کرتا ہے تو گناہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور گناہ کے بدنتائج سے اللہ تعالیٰ اسے محفوظ رکھتا ہے۔پھر حضور صل للہ یہ تم نے یہ آیت پڑھی اللہ تعالیٰ تو بہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔عرض کیا گیا یا رسول اللہ سی سیتم ! تو بہ کی علامت کیا ہے؟ آپ صلی للہ یہ تم نے فرمایا ندامت اور پشیمانی علامت تو بہ ہے۔“ ( الدر المنثور از جلال الدين السيوطي، تفسير سورة البقرة زير آيت ويسئلونك عن المحيض --) اب ندامت اور پشیمانی تو اتنا مشکل کام ہے ہی نہیں کہ کسی بندے کے اختیار سے بڑھ کر ہو۔ہاں یہ خطرہ ضرور ہوتا ہے کہ بعض دفعہ ندامت اور پشیمانی سے وقتی طور پر انسان ایک گناہ سے رکتا ہے مگر پھر بعض دوسری انسانی کمزوریوں کی وجہ سے وہ پھر اس میں مبتلا ہو جاتا ہے یہ خطرہ ہے ورنہ ندامت اور پشیمانی کو اختیار کرنا تو کوئی مشکل کام نہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مضمون کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: غرض قانون دو ہیں۔ایک وہ قانون جو فرشتوں کے متعلق ہے یعنی یہ کہ وہ محض اطاعت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور ان کی اطاعت محض فطرت روشن کا ایک خاصہ ہے۔“ یعنی اُن کی فطرت کو نور تو بخشا گیا ہے مگر وہ نور ایک ہی سمت میں رواں ہونے والا نور ہے جس کو بدلنے کا ان کو اختیار نہیں ہے۔وو وہ گناہ نہیں کر سکتے مگر نیکی میں ترقی بھی نہیں کر سکتے۔“