خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 468 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 468

خطبات طاہر جلد 17 468 خطبہ جمعہ 10 جولائی 1998ء لئے یہ مشکل ہے کہ اپنا حساب الگ رکھے کیونکہ نفس ان تاجروں کو دھوکا دیتا ہے اور وہ صرف وہ خرچ اپنا سمجھتے ہیں جو تجارت میں سے نکال لیتے ہیں مگر جن صاحب کی میں بات کر رہا ہوں وہ اس پہلو سے مجھے یقین نہیں دلا رہے تھے ، انہوں نے یہ یقین دلایا ہے کہ تجارت میں جتنا بھی فائدہ ہوگا اس فائدے میں سے سب سے پہلے اللہ کا حق نکالوں گا اور اس کے بعد جو بچتا ہے تو پھر خدا مجھے تو فیق دے تو جس طرح چاہوں خرچ کروں۔تو یہ فرق ہے۔بہت نمایاں پیش نظر رکھنے والا فرق ہے کہ اللہ کا حق اس منافع میں سے نکالنا چاہئے جو تجارتی منافع ہو۔جو بقیہ ہے اس کو پھر تجارت میں خرچ کریں اور پھر دیکھیں کہ اللہ اس میں پہلے سے بہت زیادہ برکت ڈالے گا۔یہ جو بدظنی ہے اللہ تعالیٰ پر یہ بڑا نقصان پہنچاتی ہے۔لوگ ڈرتے ہیں کہ تجارت میں سے اگر ہم نے وہ خرچ جو ہم نکالتے ہیں اسی کو منافع نہ سمجھا تو ہماری تجارتیں ڈوب جائیں گی اور بچے منافع میں سے روپیہ نکالنے میں سمجھتے ہیں بڑا نقصان پہنچے گا حالانکہ نہ نکالنے کا نقصان ہے۔اللہ تعالیٰ اتنا زیادہ عطا کرتا ہے کہ انسان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔اس لئے اس کی تفصیل میں جانے کی یہاں ضرورت نہیں۔میں صرف اتنا بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس نئے زاویہ سے بھی اپنی تجارتوں کا جائزہ لیں اور دوسرے کمائیاں کرنے والوں پر بھی یہ بات صادق آنی چاہئے۔ایسے لوگ جو اس تنبیہ پر واپس لوٹے ہیں ان سے میری محبت ایک بے اختیار چیز ہے۔ناممکن ہے کہ میرا دل ان کی محبت میں نہ اچھلے جب کہ اللہ ان لوگوں کی محبت میں ایسی مثالیں دیتا ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔آنحضرت صلی ا لی ایم کی ایک حدیث ابوہریرہ سے مسلم کتاب التوبۃ میں مروی ہے۔اس مضمون کی اور بھی حدیثیں ہیں مگر میں نے یہ اس وقت پچنی ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی السلام نے بتایا کہ : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے سے اس حسن ظن کے مطابق سلوک کرتا ہوں جو وہ میرے متعلق رکھتا ہے۔“ تو پہلا جو میں نے ذکر کیا ہے ایسے لوگوں کا جو خدا پر بدظن ہیں اس کے مقابل پر رسول اللہ صلی الی یم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں ان سے وہ سلوک کرتا ہوں جو مجھ سے ظن رکھتے ہیں اگر وہ بدظن ہیں تو ان سے بدسلوک ہونا چاہئے اور یہی مضمون ہے جو میں آپ پر کھول رہا ہوں۔اگر خدا پر