خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 463 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 463

خطبات طاہر جلد 17 463 خطبہ جمعہ 3 جولائی 1998ء کا میڈیا، یہاں کی ٹیلی ویژن کی تصویریں اور پھر ارد گرد کا ماحول ، ناچتے پھرتے بچے دکھائی دیتے ہیں ان باتوں کو روکنے کے لئے جو دنیا کی کوششیں ہیں وہ بھی کریں۔ بعض دفعہ بچوں کو یہ دیکھ کر بہت مزا آتا ہے کہ بچے تالاب میں پھر رہے ہیں ، ننگے دوڑ رہے ہیں ، پھر رہے ہیں۔ ان کی تسکین جو ہے نہانے کی اور تیرنے کی وہ تو پوری ہونی چاہئے کسی طریقے سے لیکن اس طرح نہیں جس طرح یہ لوگ کرتے ہیں۔ تو بچپن سے ان کے لئے جن لوگوں نے تالاب بنا لئے ، جن کو توفیق ملی ان پر میرا کوئی اعتراض نہیں ۔ جن کو خدا نے توفیق دی ہے وہ بے شک بنائیں مگر اتنا دکھاوا نہ کریں کہ وہ تالاب لوگوں کی نظر کے لئے ہوں نہ کہ بچوں کے نہانے کے لئے ۔ مجھے یاد ہے امریکہ آنے سے بہت پہلے بھی مجھے یہ خیال رہتا تھا کہ میری بچیاں بڑی ہوں گی تو یہ محسوس نہ کریں کہ ہمیں تیرنا نہیں آیا ، نہ ہمیں نہانے کا آزادانہ مزا آیا۔ اس لئے یہاں کے معاشرہ کا تو مجھے خواب و خیال بھی نہیں تھا مگر اپنے فارم پر میں نے ایک تالاب بنا رکھا تھا چھوٹا سا جس میں میرے بچے مجھ سے سیکھتے تھے۔ ان کے ساتھ ہی خاندان کے اور بچے اور بچیاں آکر پاکیزہ ماحول میں تیرنا بھی سیکھتے تھے اور اپنے مزے پورے کرتے تھے۔ جب یہ بچیاں ، ان میں سے دو بڑی بچیاں میں ساتھ لے کر امریکہ آیا تو یہاں کے تالابوں نے ان پر ذرہ بھی اثر نہیں کیا کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ ہمارا حق ہمیں دیا گیا ہے اور ان پر رحم کرتی تھیں جو اپنا جسم بیچنے کے لئے نہاتے ہیں۔ کراہت سے ان پر نظر پڑتی تھی اور اپنے متعلق پورا اطمینان تھا کہ ہمارا جو حق ہے ہمیں عطا کیا گیا ہے۔ تو یہ میں باتیں اس وقت کی کر رہا ہوں جب میں ق کی رہا ابھی امریکہ نہیں آیا تھا۔ تو یہاں کے لوگ اگر اس نیت سے تالاب بنانے کی توفیق رکھتے ہوں کہ گھر میں پاکیزہ ماحول میں ان کی تربیت ہو سکے تو ہرگز کوئی برائی کی بات نہیں ہے۔ اس کو تکاثر اور تفاخر نہیں کہتے مگر تالاب کے بہانے اگر اتنے بڑے بڑے ہال بنائے جائیں ، اتنی بڑی بڑی چکو زیاں ہوں کہ دیکھتے ہی طبیعت میں کراہت پیدا ہو یہ تو کوئی مومنانہ طریق نہیں ہے۔ اس سے تو اگر بچے یہاں نہائیں گے بھی تو بیرونی معاشرے کی اور بھی زیادہ قدر کریں گے ۔ وہ سمجھیں گے کہ ہمارے ماں باپ نے انہی کو اپنی بڑائی کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ تو یہ ساری باتیں ایسی ہیں جو میرے اس سفر کے دوران تجربہ میں شامل ہیں ان کی تفصیل میں میں نہیں جانا چاہتا۔ جن کو توفیق ہے ضرور تالاب بنا ئیں مگر بچوں کے ساتھ مل کر ان کو تیرنا بھی سکھائیں ، ان کو ساتھ ساتھ بتائیں کہ باہر کی دنیا کی طرف نظر