خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 460
خطبات طاہر جلد 17 460 خطبہ جمعہ 3 جولائی 1998ء یہ حقیقت ہے جب انسان مر ہی گیا تو اس کو اس دُنیا سے کیا ہے، پیچھے کیا چھوڑا ، کیا نہیں چھوڑا اس کی کوئی بھی حیثیت نہیں کوئی اس کا اختیار نہیں ہے اس پر تو لفظ کم بخت سے طبیعت کو جھنجھوڑا گیا ہے۔اتنا نہیں سوچتے کہ کم بخت جب تو مر گیا تو تیرے لئے دوست دشمن ، اپنے بیگانے سب برابر ہیں۔میں نے بہت سے لوگ ایسے دیکھے اور کہتے سنے ہیں کہ دعا کرو کہ اولاد ہو جائے جو اس جائیداد کی وارث ہو۔ایسا نہ ہو کہ مرنے کے بعد کوئی شریک لے جاوے۔اولا د ہو جائے خواہ وہ بدمعاش ہی ہو۔یہ معرفت اسلام کی رہ گئی ہے۔“ الحکم جلد 8 نمبر 8 صفحہ: 9، مؤرخہ 10 مارچ 1904ء) اس لئے اپنی اولاد کی طرف خاص طور پر توجہ کریں۔قُل تعالوا اتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَ بِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ اِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُم (الانعام : 152) یہ آیت تو وہی ہے جس کی میں تلاوت پہلے کر چکا ہوں لیکن اب میں آپ کو یہ بات آخر پر سمجھانا چاہتا ہوں کہ میں نے جہاں تک جائزہ لیا ہے امریکہ کی جماعت کو اپنی اولاد کی طرف پہلے سے بڑھ کر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ بہت سے چہرے تو میں نے دیکھ لئے ہیں اور ان کی آنکھوں نے جو پیغام دیا وہ سن لیا اور سمجھ لیا مگر ہر دفعہ لمبی ملاقاتیں ممکن ہی نہیں ہوا کرتیں اور جماعت کا ایک بھاری حصہ ایسا رہ جاتا ہے جس کے ساتھ میں ملاقات نہیں کر سکتا۔تو میں تو حض نمونہ کے طور پر آپ کو بعض چہرے دکھا سکتا ہوں اس سے زیادہ مجھے کوئی توفیق نہیں ہے۔اس ضمن میں ایک اور بات میں امریکہ کی جماعت سے کہنا چاہتا تھا وہ لمبی ملاقاتوں کی معذرت ہے۔اگر چہ میری خواہش یہ ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ احمدی دوستوں سے اور ان کے بچوں سے ملوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ بعض دفعہ ان کی چند لمحوں کی ملاقات بھی ان کی اولاد کے لئے ساری زندگی کا سرمایہ بن جایا کرتی ہے۔اسی ملاقات میں بعض لوگوں نے بہت پرانی اپنی بچپن کی تصویریں میرے ساتھ دکھا ئیں اور کہا کہ ہمارے بچے جو گودیوں میں ہیں یہ ان کا سرمایہ حیات ہے۔یہ ساتھ لئے پھرتے ہیں اپنی البموں میں سجاتے ہیں اور کہتے ہیں اس طرح ہمیں گودی میں اٹھایا ہوا تھا حالانکہ اس وقت میں خلیفہ اسیح بھی نہیں تھا لیکن ان بچوں نے ان لمحات کی قدر کی اور میرے دینی تعلق کو پیش نظر رکھ کر ان تصویروں کو سنبھال کر رکھا اور جب میں دیکھتا ہوں تو بعض دفعہ پہچانا