خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 35 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 35

خطبات طاہر جلد 17 35 خطبہ جمعہ 9 جنوری 1998ء دروازہ سے داخل ہو اس کے اوپر گویا سب نیکیوں کے لیبل لگے ہوں گے اور جو سچا روزہ دار ہے خدا کے نزدیک اس کا گیٹ بھی وہیں سجایا جائے گا۔اگر ظاہری طور پر گیٹ کا تصور ضرور باندھنا ہے تو اس طرح باندھیں لیکن یہ ظاہری تصور نہیں ہے۔روحانی طور پر انسان اپنی ہر نیکی کی جزا کوگو یا دروازوں کی طرح متمثل ہوتے دیکھے گا لیکن ظاہری گیٹ نہیں ہوں گے اس کی روح محسوس کرے گی کہ میری ہر نیکی کی جزا مجھے دی جارہی ہے اور میں اسی جنت میں داخل ہورہا ہوں جہاں ایک نیکی بھی نظر انداز نہیں کی گئی۔اس کے سوا اس حدیث کا کوئی دوسرا مطلب کرنا اس حدیث کے مضمون سے روگردانی ہے۔اب بعض لوگوں کے لئے تو شاید روزہ کا ایک فائدہ ایسا دکھائی دے کہ اس پر وہ ضرور لپکیں کیونکہ انسانی فطرت ہے ، انسان کوشش کرتا ہے کہ میرے مال میں برکت پڑے اور اس برکت کی خاطر دیکھیں وہ کتنی بے برکتیاں حاصل کر لیتا ہے یعنی برکت ڈھونڈ نے نکل گھر سے اور سارا دن بے برکتیاں سمیٹ کر اپنی ایک پنجابی میں جس کو پنڈ" کہتے ہیں ” گٹھڑی“ مگر جیسا پنڈ کا لفظ ہے نا ویسا گٹھڑی میں نہیں مزہ ، وہ پہنڈا ٹھائے ہوئے بے برکتیوں کی گھر میں داخل ہوتا ہے۔نکلتا ہے برکت کے لئے لیکن آنحضرت صلی سیستم فرماتے ہیں کہ روزہ میں ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ تمہارے اموال میں برکت دے گا۔یہ کیسے ہوگا ، اللہ بہتر جانتا ہے مگر رسول اللہ صلی ایم کے الفاظ میں آپ کے سامنے پڑھ کے سنا دیتا ہوں۔سهل بن معاذ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلیہ السلام نے فرمایا: نماز ، روزہ اور ذکر کرنا اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کئے گئے مال کو سات سو گنا بڑھا دیتا ہے۔“ (سنن أبی داؤد، کتاب الجهاد، باب فی تضعيف الذکر فی سبیل الله عز وجل، حدیث نمبر : 2498) اب یہ سات سو گنا کا محاورہ یہ چلتا ہے اور اس کی بنیاد قرآن کریم میں بھی ہے اور ویسے ہی سات سو گنا کا لفظ کثرت اموال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔یہاں جو طریقہ کار ہے وہ غور سے سننے والا ہے۔کس کے مال میں روزہ برکت ڈالے گا، کس مال میں روزہ برکت ڈالے گا، فرمایا نماز ، روزہ اور ذکر اللہ تعالیٰ کے رستہ میں خرچ کئے گئے مال کو بڑھاتا ہے یعنی یہ نہیں کہ آپ نے دُنیا میں کوئی تجارت کرنی ہے تو اس میں برکت پڑ رہی ہے۔خدا کی راہ میں جو مال خرچ کریں گے اس مال میں برکت پڑے گی