خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 449 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 449

خطبات طاہر جلد 17 449 خطبہ جمعہ 3 جولائی 1998ء جو غربت اور امارت کے بارڈر پر رہتے ہیں اکثر امریکہ کی جماعت کی جو مالی کامیابیاں ہیں ان کا انحصاران لوگوں پر ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بڑی بھاری تعدا دایسی ہے جو اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے والی ہے اور یہ تاثر بھی نہ ہو کہ بعض پروفیشنل اور بعض بڑے تاجر کلیۂ اپنی ذمہ داریوں سے بے پرواہ ہیں۔میں نام بنام جانتا ہوں ان لوگوں کو جن کے چندے سالہا سال سے بالکل صاف اور ستھرے ہیں۔وہ چندوں کی صورت میں لاکھوں با قاعدہ ہر سال ادا کرتے ہیں اور پسند نہیں کرتے کہ ان کے نام اچھالے جائیں۔علاوہ ازیں ان کو طوعی چندوں میں بھی خدمت کا بہت موقع ملتا ہے۔اس لئے اگر باہر کی دنیا نے میرے پچھلے خطبہ سے یہ اندازہ لگایا ہو کہ نعوذ باللہ امریکہ ان لوگوں سے عاری ہے جن کو خدا نے کھلا دل عطا کیا اور پھر وہ خدا کی خاطر کھلا خرچ کریں، ہرگز ایسی بات نہیں مگر بدقسمتی سے ان کی تعداد بہت زیادہ ہے جن کو توفیق بڑی ملی لیکن دل چھوٹے تھے اور وہ تو فیق کے مطابق اپنے دینے والے کی خدمت میں کچھ پیش نہ کر سکے۔تو یہ خلاصہ ہے جو میں آپ سے زیادہ باہر کی دنیا کو سنا رہا ہوں کیونکہ امریکہ کے متعلق گزشتہ کئی سالوں میں مختلف خطبات میں میں یہ بار بار اعلان کرتا رہا ہوں کہ بہت سے چندوں میں امریکہ کی جماعت دنیا کے اکثر حصہ کو پیچھے چھوڑ چکی ہے۔اس تاثر کے بعد جو میرا گزشتہ خطبہ سنیں گے تو مجھے خطرہ ہے کہ بالکل غلط تاثر لے لیں گے۔جو میرا تاثر ہے وہ غلط نہیں ہے مگر جو عمومی صورت حال ہے امریکہ کی قربانیوں کی وہ اپنی جگہ قابل تعریف ہے اور جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے بڑی بھاری تعدا دان میں ان لوگوں کی ہے جو درمیانہ حال پر ہیں اور خرچ کرتے ہیں تو اس کی تکلیف محسوس کرتے ہیں۔تکلیف سے مراد یہ ہے کہ اس کی تنگی محسوس کرتے ہیں مگر اس کے باوجود خوش ہوتے ہیں کیونکہ اللہ کی راہ میں خرچ کر رہے ہیں۔دوسرا پہلونئی نسلوں سے تعلق رکھنے والا ہے۔اس کی بات میں اس آیت کی تشریح کے بعد کروں گا کیونکہ میرے نزدیک اس آیت کریمہ کی طرح جس کی میں نے تلاوت کی ہے اس کا براہ راست تعلق امریکہ کے معاشرہ سے ہے اور دنیا میں کسی اور جگہ یہ آیت اتنا اطلاق نہیں پاتی جتنا امریکہ کے معاشرہ پر اطلاق پاتی ہے۔فرمایا: اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَ لَهُو جان لو سمجھ لو اس بات کو کہ دُنیا کی زندگی تو محض کھیل تماشہ ہے، دل بہلا وا ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔جتنا کھیل تماشہ امریکہ کا معاشرہ پیش کرتا ہے اس سے زیادہ آپ کو دنیا میں کہیں دکھائی نہیں دے گا۔ان کی