خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 448 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 448

خطبات طاہر جلد 17 448 خطبہ جمعہ 3 جولائی 1998ء رضاء الہی مقرر ہے اور ور لی زندگی صرف ایک دھو کے کا فائدہ ہے۔“ (سورة الحديد، آیت نمبر : 21 ترجمه از تفسیر صغیر بیان فرمودہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب) اس آیت اور اس کے علاوہ کچھ آیات کے مضمون کی طرف میں ابھی کچھ ٹھہر کے لوٹوں گا۔سب سے پہلے میں بعض متفرق باتیں کرنی چاہتا ہوں جو عموماً سفر کے آخری جمعہ میں کی جاتی ہیں۔عمومی تاثرات جو جماعت امریکہ کے سفر کے دوران میرے دل پہ پیدا ہوئے اور بھی بہت سی باتیں ایسی ہیں جن کے تفصیلی ذکر کی گنجائش تو نہیں مگر اشارہ میں انہیں سمیٹنے کی کوشش کروں گا۔سب سے پہلے تو یہ کہ جماعت احمدیہ امریکہ کے اس سفر میں مجھے ہر قسم کے تجربے ہوئے ہیں، تلخ بھی اور پسندیدہ بھی۔جہاں تک تلخ تجارب کا تعلق ہے اپنے گزشتہ خطبہ میں جو واشنگٹن میں میں نے دیا تھا ان کا ذکر کر چکا ہوں اور ایک تنبیہ کرنی تھی آگے استفادہ کرنا یانہ کرنا یہ شخص کا اپنا کام ہے۔میرا فرض تو اتناہی ہے جیسا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی سلیم کی ذمہ داری تھی کہ بلاغ کرو، پہنچا د اور اتنا پہنچاؤ کہ سننے والے کے لئے گنجائش نہ رہے کہ وہ پھر تاویلیں کر سکے۔اصل معنی بلاغ کا یہ ہے۔تو جہاں تک میرا بس چلا میں نے اس رنگ میں بات پہنچانے کی کوشش کی کہ سننے والوں کیلئے تاویلوں کی گنجائش نہ رہے مگر تاویلیں کرنے والوں کا اپنا ایک رنگ ہوا کرتا ہے اور جن کی تاویل کی عادت ہے ان کے متعلق قرآن کریم بیان کرتا ہے کہ انہوں نے تاویلیں کرنی ہی ہیں لیکن اصل حقیقت کو اگر غور کریں تو سمجھ سکتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا وَ لُو القَى مَعَاذِيرَة- (القیمۃ:16) انسانی فطرت عجیب ہے خواہ بڑے بڑے عذر گھڑے اور تراشے اور پیش کرے مگر دل کا حال خود انسان جانتا ہے اور اگر کبھی وہ ٹھنڈے دل سے غور کرے تو اس کو حقیقت حال کی سمجھ آسکتی ہے۔تو جہاں تک میرا تعلق ہے میں نے اپنی طرف سے یہی کوشش کی کہ جو عذر گھڑنے والے ہیں ان کو بھی ایک دفعہ بھنبھوڑ کے جگا دوں کہ کبھی اپنے دل کی کیفیت پر اس طرح تو غور کرو جیسے قرآن کریم نے فرمایا ہے اور اس غور کے نتیجہ میں تم ضرور جاگ جاؤ گے اور سمجھ لو گے کہ اصل حقیقت کیا ہے۔اب میں آپ کے سامنے عمومی تاثر بیان کرتا ہوں۔جماعت امریکہ کا جوخوش کن پہلو میرے سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ یہاں بھاری تعداد عوام الناس کی ایسی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے چندے میں اپنا معاملہ صاف رکھے ہوئے ہیں۔چھوٹے تنخواہ دار ، چھوٹی تجارت کرنے والے وہ لوگ