خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 440 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 440

خطبات طاہر جلد 17 440 خطبہ جمعہ 26 جون 1998ء میں خرچ ہونا چاہئے اور کنجوسیوں کا علاج ہی محبت الہی ہے۔جس شخص سے محبت ہو اس کی خاطر تو بعض عام آدمی بھی سب کچھ لٹا دیا کرتے ہیں۔کوئی رڈ کر دیں تو نا پسند کرتے ہیں، دکھ اٹھاتے ہیں اور بعض اس کی مثالیں میں نے آپ کو جماعت میں بھی دے دی ہیں۔محبت کے نتیجے میں خرچ کرنا سیکھیں گے تو خرچ کرنے کا سلیقہ آئے گا۔اگر محبت نہیں ہے تو خرچ بھی کچھ نہیں۔پس جتنے بھی لوگ کنجوس ہیں ان کی کنجوسی کا ایک ہی علاج ہے اللہ کی محبت میں گرفتار ہونے کی کوشش کریں۔اپنے عزیزوں کو جو دیتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اس کی بجائے اس کو کیوں نہیں دیتے جس نے خود ان کو دیا ہوا ہے۔وہ بڑے پیار اور محبت اور اُمیدوں سے ان سے تقاضا کرتا ہے وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ جو ہم نے ان کو دیا ہے اسی میں سے کچھ واپس کر دو۔اور سب کچھ نہیں مانگ رہا لیکن محبت جتنی بڑھے گی وَمِنَا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُونَ کا جو معیار ہے وہ اونچا ہوتا چلا جائے گا۔میں نے بارہا جماعت کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ خرچ کے لئے محبت کا ہونا ضروری ہے۔اپنی اولاد پر صرف اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ آپ کو اس سے محبت ہے۔اگر کسی سے محبت ہو اور وہ رڈ کرے تو آپ کو تکلیف پہنچتی ہے۔تو اللہ کے حضور خرچ کے لئے اللہ کی محبت پیدا ہونا ضروری ہے اور یہ محبت بغیر دعا کے حاصل نہیں ہو سکتی۔آنحضرت صلی ا سلام حضرت داؤد کی ایک دعا بڑی محبت سے پڑھا کرتے تھے حالانکہ آپ صلی ا یہ مہم کے دل کی کیفیت حضرت داؤد کے دل کی کیفیت سے بہت اونچی تھی مگر جب ایک ہی وجود کے دو عاشق ہوں جن کے اندر رقابت نہ ہو بلکہ رشک کا جذبہ ہو تو ایسی صورت میں ضروری ہے کہ اس شخص کی محبت میں گرفتار دوسرے کو دیکھ کر اس سے بھی محبت ہو جائے۔آنحضرت صلی ا یہ تم حضرت داؤد علیہ السلام کی یہ دعا پڑھتے تھے: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ ، وَحُبَّ مَن يُحِبُّكَ، وَالعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَى مِنْ نَفْسِي وَأَهْلِي وَمِنَ الْمَاءِ البَارِدِ (جامع الترمذی، کتاب الدعوات باب دعاء داؤد اللهم أنى أسئلك -- ، حدیث نمبر : 3490) اے اللہ مجھے اپنی محبت عطا فرما۔میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں حضرت داؤد کے الفاظ میں ، ہر اس وجود کی محبت عطا فرما جو مجھے تیری طرف لے جائے جس کی محبت تیری محبت میں آگے بڑھا دے اور میں تجھ سے محبت مانگتا ہوں اس بات کی یعنی اپنے نفس، اپنے اہل، اپنے عزیزوں سے بڑھ کر جو چیز مجھے