خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 432
خطبات طاہر جلد 17 432 خطبہ جمعہ 26 جون 1998ء ہے وہ یہ ہے دیتے رہے ہیں جب خرچ کا وقت گزر چکا ہوگا ۔ ایسے لوگوں کے متعلق ایک اور پیشگوئی ہے که فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا یہ لوگ جو خدا کی راہ میں خساست سے کام سے کام لیتے ہیں ان کی حالت ہمیشہ بد سے بدتر ہوتی چلی جاتی ہے۔ کن معنوں میں وہ بد سے بدتر ہوتی ہے اس کی بہت بڑی تفصیل ہے جس کے متعلق بعض دوسرے مواقع پر میں نے بیان بھی کیا تھا کہ سب سے پہلے تو ان کے دل کا امن اٹھ جاتا ہے۔ نہ ان کی اولا دیں ان کی رہتی ہیں، نہ اموال کے وہ فوائد ان کو پہنچتے ہیں جو دل کو تسکین بخشنے والے فوائد ہیں۔ ایک بھر کی سی لگی رہتی ہے کہ اور کمائیں ، اور کمائیں اور اکٹھا کر لیں لیکن وہ اکٹھا کرنا جہنم کی آواز کی طرح ہے جو یہ کہتی ہے هَلْ مِنْ مَزيد (ق: 31) جب بھی جہنم سے پوچھا جائے گا، یعنی اللہ تعالی ایک تمثیلی زبان میں ہمیں بتارہا ہے کہ اور چاہئے کچھ ایندھن؟ وہ کہے گی هَلْ مِنْ مَّزید اور بھی ہے تو وہ بھی ڈال دو۔ تو یہ مال کی محبت میں دیوانے لوگ ہمیشہ هَلْ مِن مزید کی آواز اٹھاتے ہیں۔ کہیں سے کچھ مل جائے، کہیں سے بچت ہو جائے حکومت کا پیسہ مارا جائے یا عوام کا یا جماعت کا جس طرح بھی بس چلے وہ دن بدن مال کی محبت میں بڑھتے چلے جاتے ہیں ۔ وَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ ان کے لئے ایک دردناک عذاب مقدر ہے اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے رہے ہیں اپنے آپ سے بھی اور اپنے نفس سے بھی ، اپنی اولادوں سے، سب سے وہ جھوٹے ہیں ۔ یہ وہ آیات ہیں جنہیں آج کا میں نے موضوع اس لئے بنایا ہے کہ آج کل جماعت کا ایک مالی سال ختم ہو رہا ہے اور بعض جماعتوں کی طرف سے مجھ سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ دعا کریں کہ اللہ ہمیں اپنے سارے وعدے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اسی تعلق میں میں نے یونائٹڈ سٹیٹس میں جو متمول احمدی ہونے چاہئیں ان کا جائزہ بھی لیا ہے اور میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ان میں بھاری تعداد وہ ہے جن پر ان آیات کا اطلاق ہو رہا ہے اور وہ نہیں جانتے ۔ ان کو احساس ہی نہیں کہ ہم کس کشتی میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ یہ وہ کشتی ہے جس کا غرق ہونا مقدر ہو چکا ہے اور میرا فرض ہے کہ اب میں ان کو متنبہ کردوں اس کے بعد وہ جانیں اور اللہ ان سے نپٹے گا لیکن میں نے ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی کر لیا ہے اور اس کے متعلق بعد میں کچھ اور عرض کروں گا کہ وہ سب لوگ جن کے متعلق مجھے علم ہے کہ ان کے اموال اس - اس سے بہت زیادہ ہیں جتنا وہ چندوں میں ظاہر کرتے ہیں ، ایساء ، ایسا علم ہے کہ میں قطعیت ۔