خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 423
خطبات طاہر جلد 17 وو 423 خطبہ جمعہ 19 جون 1998ء وہ عدالت کے دن مواخذہ کے لائق ہوگا۔اگر نجات چاہتے ہو تو دین العجائز اختیار کرو اور مسکینی سے قرآن کریم کا جو اپنی گردنوں پر اٹھاؤ۔“ دین العجائز کس کو کہتے ہیں۔بڑی بوڑھیاں جب ان کو کوئی نیکی کی بات کہی جائے تو بے چون و چرا وہ باتیں کر لیتی ہیں۔کبھی وہ جھگڑا نہیں کرتیں کہ اس میں کیا حکمت تھی، کیوں ہم پر یہ بات فرض کی گئی ہے۔سیدھی سادی پرانے زمانہ کی مائیں آپ نے گھروں میں دیکھی ہوں گی جو اکثر دیہاتی زندگی میں اب ایک قصہ پارینہ بن گئی ہیں۔آج کل تو بعض بوڑھیاں بھی بڑی چالاک ہوگئی ہیں اور وہ بہانے ڈھونڈتی ہیں اسلام سے بچنے کے لیکن پرانے زمانے میں ہم نے وہ عورتیں دیکھی ہوئی ہیں، سیدھی سادی سفید کپڑے پہنے ہوئے ، سر کو چٹی سے ڈھانپا ہوا ، ان کو جو کہا بی بی آپ یہ کھالیں۔اچھا یہی کھا لیتے ہیں۔یہ کام کریں ، اچھا یہی کام کر لیتے ہیں۔ان کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ جو بھی احکامات نازل فرماتا ہے وہ ان کی بھلائی کے لئے ہیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” اگر نجات چاہتے ہو تو دین العجائز اختیار کرو اور مسکینی سے قرآن کریم کا جوا اپنی گردنوں پر اٹھاؤ ، مسکینی کی حالت ہوگی تو پھر قرآن شریف کا اٹھانا آسان ہو جائے گا۔اگر مسکینی کی حالت نہ ہوگی تو یہ جوا جو ہے یہ بہت مشکل پیدا کر دے گا۔کہ شریر ہلاک ہوگا اور سرکش جہنم میں گرایا جائے گا۔پر جو غریبی سے گردن جھکاتا ہے وہ موت سے بچ جائے گا۔“ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد نمبر 3 صفحہ : 548) اب حکموں کی تعداد ایک سے دو ، دو سے تین ، تین سے آگے بڑھتی جارہی ہے، پانچ سو تک پہنچی۔اب فرماتے ہیں: سو تم ہوشیار رہو۔اور خدا کی تعلیم اور قرآن کی ہدایت کے برخلاف ایک قدم بھی نہ اٹھاؤ۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو شخص قرآن کے سات سو حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کرتا ہے۔حقیقی اور کامل نجات کی راہیں قرآن نے کھولیں اور باقی سب اس کے ظل تھے۔سوتم قرآن کو تدبر سے پڑھو اور اس سے بہت ہی پیار کرو۔ایسا پیار کہ تم نے کسی سے نہ کیا ہو کیونکہ