خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 422 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 422

خطبات طاہر جلد 17 422 خطبہ جمعہ 19 جون 1998ء فرمارہے ہیں بڑی روحانی نعمتیں ہیں جو ہمارے سامنے سجائی گئی ہیں اور اکثر آدمی دیکھ کے حیران ہوتے ہیں کہ یہ کیا نعمتیں کھا رہے ہیں۔ہر چیز سے تو بچنے کا حکم ہے، ہر مزے کی بات تو حرام کر دی گئی ہے تو یہ کیسی دعوت ہوئی جس میں ہر مزے مزے کی بات حرام ہوگئی اور ہر بیہودہ چیز جس کو ہم بیہودہ سمجھ رہے ہیں اس کے متعلق ہے کہ بے شک کھاؤ۔یہ فہم کا قصور ہے، یہ انسانی فطرت کے رجحانات کا قصور ہے۔جب بیمار ہوں گے تو یہی کچھ ہوگا۔اگر بیمار نہیں ہوں گے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ سنئے۔فرماتے ہیں: سو تم اس دعوت کو شکر کے ساتھ قبول کرو اور جس قدر کھانے تمہارے لئے تیار کئے گئے ہیں وہ سارے کھاؤ“ اب بتائیں کون انسان ہے جو بیمار حالت میں ان کھانوں کو کھا سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کتنی آسانی سے فرمارہے ہیں کچھ بھی بات نہیں تمہارے لئے تیار کئے گئے ہیں۔سارے کھاؤ اور سب سے فائدہ حاصل کرو۔جو شخص ان سب حکموں میں سے ایک کو وو بھی ٹالتا ہے میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ عدالت کے دن مواخذہ کے لائق ہوگا۔“ اگر تم عمداً کسی حکم سے احتراز کرو گے اور منہ بناؤ گے اور اس کھانے کو اپنے نفس کے لئے، اپنی اصلاح کے لئے قبول نہیں کرو گے تو فرماتے ہیں، ” وہ عدالت کے دن مواخذہ کے لائق ہوگا۔اب یہ بھی نہیں فرمایا کہ عدالت کے دن ضرور اس کا مواخذہ ہوگا۔یہ دو باتیں الگ الگ ہیں۔ان کا فرق ہے۔یہ کہنا ایک بات ہے کہ قیامت کے دن لازماً اس کا مواخذہ ہوگا اور یہ کہنا الگ بات ہے کہ وہ مواخذہ کے لائق ہو گا۔آگے اللہ کی مرضی ہے۔فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ - (البقرة: 285) لازم نہیں ہے کہ ہر قابل مواخذہ کو ضرور پکڑے مگر اپنی دانست میں تم خطرے کے نیچے آگئے۔اگر آپ بے دھڑک سڑک پار کرتے ہیں اور کوئی موٹر پاس آ کے رک جائے آپ کو نہ کچلے تو اس میں آپ کی کوئی خوبی نہیں۔مواخذہ کے لائق آپ ٹھہر گئے تھے۔اگر وہ موٹر آپ کو پھل بھی دیتی ہے تو اس کا کوئی قصور نہیں تھا۔پس مواخذہ کے لائق ٹھہرنا اور بات ہے اور مواخذہ ہونا اور بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عبارات بہت ہی باریک اور لطیف عبارات ہیں ان پہ کوئی منطقی اعتراض عائد نہیں ہوتا۔