خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 421
خطبات طاہر جلد 17 421 خطبہ جمعہ 19 جون 1998ء لئے ضروری ہے۔جب تکلیف اٹھاؤ گے تو اس کے نتیجے میں پھر صحت بھی نصیب ہوگی اور اس طرح ایک ادنیٰ حالت سے دوسری نسبتاً اعلیٰ حالت کی طرف تم حرکت کرتے چلے جاؤ گے۔آگے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان احکامات کو کس رنگ میں دیکھا ہے اس رنگ میں دیکھنے کے لئے ابھی ہمیں اور بہت سی ترقی کی ضرورت ہے ورنہ یہ عبارت پڑھ کر آپ تعجب کریں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان کو کس رنگ میں دیکھ رہے ہیں۔فرماتے ہیں: وو ہر ایک عمر اور ہر یک مرتبہ فہم اور مرتبہ فطرت اور مرتبہ سلوک اور مرتبہ انفراد اور اجتماع کے لحاظ سے ایک نورانی دعوت تمہاری کی ہے۔“ قرآن کریم نے اپنے احکامات اور مناہی میں تمہاری ایک روحانی دعوت کی ہے۔اب جس کو دعوت میں اچھے اچھے کھانے ، مزے مزے کے کھانے ملیں وہ کیوں ان پر ہاتھ نہیں ڈالے گا، کیوں ان سے پیٹ بھرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔مگر نظر تو آئے کہ یہ دعوت ہے۔اگر دعوت کی بجائے وہ محض دستر خوان چنا ہو اور کھانے والا بیمار ہو تو ہر لقمہ جو اٹھائے گا وہ اس کے لئے مصیبت بن جائے گا۔بیماری کے دنوں میں یہی ہوتا ہے۔پچھلے دنوں مجھے تکلیف ہوئی تھی اور کھانے کا مزہ ہی اٹھ گیا۔وہ نعمتیں جن کو لوگوں کے سامنے دستر خوان پر بچھا ہوا بچوں کے سامنے دیکھتا تھا اور میں حیرت سے دیکھتا تھا کتنے مزے سے کھا رہے ہیں مگر حکم اٹھ گیا تھا۔جب اللہ تعالیٰ نے وہ صحت نہ دی جس صحت سے سب کھانوں کے مزے متعلق ہیں تو کھانے بالکل بر کار اور بے معنی دکھائی دے رہے تھے۔تو یہ فرق ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوت دیکھنے میں اور آپ کے دعوت دیکھنے میں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب یہ روحانی دعوت دیکھتے ہیں تو بہت مزے کرتے ہیں کہ سُبحان اللہ کیسے کیسے مزے مزے کے کھانے خدا نے ہمارے لئے تیار کئے ہیں اور ایک بیمار آدمی بیٹھا حیرت سے دیکھ رہا ہے کہ کیسے کھا رہے ہیں۔مجھے تو ہر کھانے کے لئے ایک مصیبت کرنی پڑ رہی ہے ،لقمہ گلے سے اتر تا نہیں اور کس مزے مزے سے کھا رہے ہیں۔تو یہ سارے حالات ایسے ہیں جن کو تفصیلی نظر سے دیکھیں تو بات سمجھ آتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک بھی عبارت ایسی نہیں جو گہری حکمتوں سے عاری ہو ایک نا فہم آدمی کو شروع میں سمجھ نہیں آئے گی۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام