خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 420 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 420

خطبات طاہر جلد 17 420 خطبہ جمعہ 19 جون 1998ء صادق آتا ہے کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی نجات کے دروازے بند کر لئے ہیں۔پس کمزوروں کے لئے اس میں خوشخبری ہے اور طاقتوروں کے لئے بھی خوشخبری ہے۔ہر حکم کے اندر کچھ حکمتیں ہیں ان حکمتوں کو سمجھنے کی کوشش کرو اور تکبر کی راہ سے کسی حکم کو نظر انداز نہ کرو۔اگر کرو گے تو لازماً اس کا شدید نقصان پہنچے گا اور یہ نقصان بڑھتے بڑھتے جہنم کے کنارے تک پہنچادیتا ہے۔فرماتے ہیں: باقی تمام احکام ان اصلاحوں کے لئے بطور وسائل کے ہیں اور جس طرح بعض وقت ڈاکٹر کو بھی صحت کے پیدا کرنے کے لئے کبھی چیر نے کبھی مرہم لگانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ایسا ہی قرآنی تعلیم نے بھی انسانی ہمدردی کے لئے ان لوازم کو اپنے اپنے محل پر استعمال کیا ہے اور اس کے تمام معارف یعنی گیان کی باتیں اور وصایا اور وسائل کا اصل مطلب یہ ہے کہ انسان کو ان کی طبعی حالتوں سے جو وحشیانہ رنگ اپنے اندر رکھتی ہیں اخلاقی حالتوں تک پہنچائے اور پھر اخلاقی حالتوں سے روحانیت کے نا پیدا کنار دریا تک پہنچائے۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحه : 327 تا330) اب یہ ساری عبارت ہی غور طلب ہے، ٹھہر ٹھہر کر فکر کے ساتھ پڑھنے والی ہے لیکن خلاصہ میں نے پہلے آپ کے سامنے عرض کر دیا ہے کہ کوئی ایک تعلیم بھی بیکار اور بے ضرورت نہیں ہے۔اور ہر تعلیم اگلی تعلیم کے لئے تیار کرتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ اچانک آپ کو آخری صورت میں قرآن کریم کی اعلی تعلیم پر عمل کرنا نصیب ہو جائے یہ ہو ہی نہیں سکتا۔مگر آپ کا سفر شروع ہو جائے تو ہر تعلیم جس پر آپ انکسار کے ساتھ عمل کریں گے وہ اگلی تعلیم کے لئے تیار کر دے گی۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی مثال ایک پھوڑے سے دی ہے جس کی اصلاح ڈاکٹر کو کرنی ہے۔اب ہر بیماری کا علاج بغیر تکلیف کے ممکن نہیں ہے۔پھوڑے کی مثال دے کر بیان فرما دیا کہ ڈاکٹر کو اس پہ چیر ڈالنا پڑتا ہے تا کہ اس کا گند، اس کا مواد پھوٹ کر باہر آ جائے۔اب یہ تکلیف دہ امر ہے اس لئے جب اپنے متعلق تم کوئی اسلام کی اصلاحی کارروائی استعمال کرو تو یا درکھنا کہ لازم نہیں کہ تمہیں ضرور اس کا مزا آئے۔ابتداء میں تکلیف ہوگی اور تکلیف سے ڈر کر تم پیچھے بھی ہٹ سکتے ہوا گر پیچھے ہٹو گے تو وہی مواد ، زہریلا مواد جو تمہارے اندر ہے وہ تمہارے لئے ہلاکت کا موجب بن جائے گا۔اگر احکامات کی گہری حکمتوں پر نظر رکھو گے تو جان لو کہ ہر تکلیف اٹھا نا تمہاری صحت کے