خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 416
خطبات طاہر جلد 17 416 خطبہ جمعہ 19 جون 1998ء اس زمانہ میں عرب کا حال نہایت درجہ کی وحشیانہ حالت تک پہنچا ہوا تھا۔اور کوئی نظام انسانیت کا ان میں باقی نہیں رہا تھا اور تمام معاصی ان کی نظر میں فخر کی جگہ تھے۔“ اور یہ وہ امر ہے جس کا آج بھی اطلاق ہو رہا ہے۔بہت سے گناہ ایسے ہیں جن پر فخر کیا جارہا ہے اور ٹیلی ویژن پر وہ فخر کے طور پر دکھائے جاتے ہیں کہ ہم ان گناہوں میں اتنا تر قی کر چکے ہیں۔اور تمام معاصی ان کی نظر میں فخر کی جگہ تھے۔ایک ایک شخص صد ہا بیویاں کر لیتا تھا۔“ اب آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کا اطلاق نہیں ہورہا حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ جتنی جنسی بیماریوں کی تحقیق کرنے والے ماہرین ہیں وہ یہ بتاتے ہیں کہ امر واقعہ ہے عورتیں بھی صدہا مرد کرتی ہیں اور مرد بھی صد با عورتیں کرتے ہیں صرف قانون کی نظر میں شادی شدہ نہیں ہوتے۔تو عربوں کو تو اس بات کا کوئی جھگڑا نہیں تھا۔ان کے ہاں شادی ہونا یا نہ ہونا برابر بات تھی لیکن جہاں ایک شادی کی اجازت ہے اور ایک شادی پر فخر ہے وہاں غیر قانونی شادیاں آپ سینکڑوں بھی کر لیں تو کوئی اعتراض کی بات نہیں، قانونی شادی نہیں ہونی چاہئے بس۔صرف یہ اختلاف ہے۔تو جب آپ سنتے ہیں ایک شخص صدہا بیویاں کر لیتا تھا تو یہ واقعہ آج بھی اس بات پر عمل ہو رہا ہے۔فرماتے ہیں: حرام کا کھانا ان کے نزدیک ایک شکار تھا۔“ اب حرام خوری تو اتنی عام ہو چکی ہے دنیا میں جیسے شکار کر لیا ویسے حرام خوری کر لی کوئی بھی فرق اور کوئی تمیز باقی نہیں رہی۔اب یہ ایک فقرہ ایسا ہے جو اچانک دلوں میں ایک ہلچل پیدا کر دے گا مگر امر واقعہ یہ ہے کہ آج کل دنیا میں بعینہ یہ بات ہم ہوتی دیکھ رہے ہیں یہاں تک کہ اسلامی ممالک کہلانے والوں میں بھی یہ بدی مل رہی ہے اور ہمیشہ تو نہیں پکڑی جاسکتی مگر پکڑے جانے کے مواقع بھی اتنے ہیں کہ اخبارات ان کے ذکر سے منہ کالا کر لیتے ہیں۔فرماتے ہیں: ماؤں کے ساتھ نکاح کرنا حلال سمجھتے تھے۔“ اب نکاح کرنا تو حلال سمجھتے تھے مگر یہاں جو خبریں پاکستان کے اخباروں میں آتی رہتی ہیں ان سے پتا لگتا ہے کہ نکاح کرنا تو حرام ہی رہے گا مگر نکاح کے لوازمات سارے کر لیتے ہیں اور بہت ہی خوفناک حالتیں ہیں جن کے تفصیلی ذکر کی گنجائش نہیں ہے۔یعنی میری طبیعت پر ان کے ذکر سے ایسی کراہت آتی ہے کہ میں مجبور ہوں کہ اشارہ ہی آپ کے سامنے رکھ دوں کہ یہ بدیاں بھی عام ہو چکی ہیں۔فرماتے ہیں: