خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 408 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 408

خطبات طاہر جلد 17 408 خطبہ جمعہ 12 جون 1998ء وہ اُردو اور انگریزی کے ایک بے پناہ ، زبردست اور ٹھنڈے دل و دماغ کے اعلیٰ پایہ کے مقرر تھے۔انہوں نے قائد اعظم کے حکم کے تحت پارٹیشن کمیٹی ( یعنی باؤنڈری کمیشن) میں مسلم لیگ کی جس طرح ترجمانی کی اس کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔( مگر ذ کر بھی نہیں کرتے اس ریکارڈ کا کیونکہ اس کے برعکس نتیجہ نکالنے کے عادی بن چکے ہیں یہ لوگ۔) اسی طرح قیام پاکستان کے بعد انہوں نے جس انداز سے کشمیر کے مسئلہ کو سیکیورٹی کونسل کے سامنے پیش کیا یہ اس کا ثمر تھا کہ سیکیورٹی کونسل نے متفقہ طور پر کشمیر کے مستقبل کو عوام کے استصواب رائے سے مشروط کر دیا۔( یہ جو واقعہ گزرا ہے یہ ظفر اللہ خان کی کوششوں سے ہوا ہے ) چوہدری محمد ظفر اللہ خان نے عربوں کے کیس کی اقوام متحدہ میں جس خلوص اور دیانت داری ، بلند حوصلگی سے نمائندگی کی اس کا اعتراف تمام عالم اسلام کو ہے۔“ اگر پاکستان کو نہیں تو یہ عالم اسلام نہیں ہے۔مش جو احمدی نہیں تھے بلکہ ایک دور میں احمدیت کی بڑی سخت مخالفت کیا کرتے تھے ان کا یہ اقرار ہے۔کہتے ہیں عالم اسلام کو تو اعتراف ہے جن کو نہیں ان کا نام جو مرضی بھی ہو عالم اسلام نہیں ہے۔میں نے جو کچھ دیانتداری سے سمجھا اسے لکھ دیا۔“ (نوائے وقت میگزین مؤرخہ 21 ستمبر 1990ء صفحہ:8) یدمش کا دیانتداری کا اقرار ہے۔اب میں اس خطبہ کو ختم کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کوصرف یہ نصیحت کرتا ہوں کہ بے دلی اور کمزوری نہ دکھا ئیں۔اپنی نیکیوں پر استقامت اختیار کریں۔قوموں کی تاریخ بدل جایا کرتی ہے۔بالآخر صبر کو فتح نصیب ہوا کرتی ہے۔آپ دعائیں کرتے رہیں اور صبر سے کام لیں۔اس وقت جو حالات ہیں ان میں پاکستان کے سر پر بہت بڑے خطرات منڈلا رہے ہیں اتنے خطرناک حالات ہیں کہ ان کا اگر صحیح علم آپ کو ہو تو دل دہل جائے۔کوئی شعبہ ایسا باقی نہیں رہا جو بدامنی کا شکار نہ ہو چکا ہو۔اقتصادی حالات بد سے بدتر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔یہ بات تو غلط ہے کہ امریکہ یا دوسرے امیر ملکوں کے بائیکاٹ کے نتیجہ میں پاکستان کو کوئی بڑا اقتصادی نقصان پہنچ سکتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بڑی قو میں بڑی خود غرض ہیں۔جہاں ان کا اپنا مفاد ہو، جہاں یہ خطرہ