خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 407
خطبات طاہر جلد 17 407 خطبہ جمعہ 12 جون 1998ء اب یہ Stated Weekly of Pakistan کا ایک حوالہ میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔13 مارچ 1950ء کی اشاعت میں لکھتا ہے: ”ہمارے وزیر خارجہ نے وہ ناموری حاصل کی ہے جو بلاشبہ کسی دوسرے ملک کو نصیب نہیں ہے یعنی وزارت خارجہ کا جو حق ظفر اللہ خان نے ادا کیا ہے وہ دنیا بھر کے کسی وزیر خارجہ کو نصیب نہیں ہوا۔چھوٹے سے ملک کا نمائندہ ہو کر شہرت کے آسمان پر ایسا ابھرے اور ایسا چمکے ہیں کہ دنیا بھر کے وزرائے خارجہ کو بالکل ماند کر کے دکھا دیا۔اڑھائی سال کے عرصہ میں بیرونی دنیا میں انہوں نے پاکستان کی ساکھ کو قائم کرنے اور اس کی عزت و وقار کو چار چاند لگانے کا جو کارنامہ سرانجام دیا ہے اس کی مثال نہیں مل سکتی۔سلامتی کونسل میں جس طریق پر انہوں نے مسئلہ کشمیر کا معاملہ پیش کیا ہے اس سے اس فریب کا جو پاکستان کو دیا جا رہا ہے پردہ چاک ہو گیا ہے۔Lake State میں کمال بے جگری سے انہوں نے کشمیر کی جنگ لڑی ہے اور دنیا کے سامنے یہ ثابت کر کے کہ بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں کسی بھی زاویہ نگاہ سے کیوں نہ دیکھا جائے جارحانہ اقدام کا ارتکاب کرنے میں پہل دوسرے فریق نے کی ہے۔وہ اس جنگ میں فتح یاب رہے ہیں۔قائد اعظم مرحوم کی طرح وہ جھکنا نہیں جانتے تھے۔وہ اس فتح کے قائل ہی نہیں تھے جو گر کر نصیب ہو۔“ یہ ہے احمدیوں کے کردار کو خراج تحسین۔جب ان پر اعتماد کیا گیا اور پاکستان کی وکالت ان کے سپرد کی گئی تو اس طرح وفا کے ساتھ ، اس طرح سچائی کے ساتھ انہوں نے اس کا حق ادا کیا ہے۔اب یہ مشہور کر رہے ہیں کہ احمدیوں کو اس لئے کلیدی عہدہ نہیں دیا جاتا کہ ملک کے بھی غدار ہیں اور اسلام کے بھی غدار ہیں۔بے حیائی کی کوئی حد تو ہونی چاہئے مگر ہمارے بدنصیب وطن میں اس کی کوئی حد معلوم نہیں ہوتی۔مش ( میاں محمد شفیع۔مرتب ) جو نوائے وقت کے مقالہ نگار تھے ان کی ایک تحریر پڑھ کے میں اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں۔وہ لکھتے ہیں :