خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 30 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 30

خطبات طاہر جلد 17 30 خطبہ جمعہ 9 جنوری 1998ء دھار کر رسول اللہ لا یتیم سے سوال کیا کیونکہ اگر مدینہ کی سوسائٹی میں کوئی معروف شخص ایسا ہوتا تو عجب نہیں تھا کہ حضرت جابر اس کا نام لے دیتے۔اس لئے اگر کسی حدیث میں نام ہے تو الگ بات ہے مگر مجھے یہ خیال گزر رہا ہے کہ یہ حضرت جبرائیل کا دین سکھانے کا طریق تھا۔جامع الترمذی کتاب الصوم رمضان میں شیاطین کا جکڑا جانا اور ابواب جنت کا کھلنا۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةً قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله۔۔الخ، اس کا میں ترجمہ آپ کو سنا دیتا ہوں۔یہ وہ حدیث ہے جو ہر رمضان کے دوران جمعوں میں جب میں رمضان کے تقاضوں اور باریک راہوں کا ذکر کرتا ہوں، یہ حدیث بھی ہمیشہ سنایا کرتا ہوں۔اب بھی میں اس کو پھر سناؤں گا۔یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر دفعہ جب تکرار ہوتی ہے تو وہ واقعی تکرار ہی ہوا کرتی ہے۔ہر دفعہ جو تکرار ہوتی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کوئی نئے مضمون بھی سمجھا دیتا ہے جو پہلے نہیں بیان کئے گئے اور ایسی تکرار جو بنیادی نیک باتوں کی تکرار ہو اس سے اللہ تعالیٰ نے منع نہیں فرمایا بلکہ اس کی ہدایت فرمائی ہے۔فذكر ان نَّفَعَتِ الذِكرى (الاعلی: 10) تجھ پر فرض ہے کہ مرکزی نصیحت کی باتیں بار بار دہرا تارہ اور کثرت سے بیان کرتا کہ خوب اچھی طرح دلوں میں جاگزیں ہو جا ئیں۔پس اس پہلو سے بعض لوگ جو ہر دفعہ یہ سنتے ہوں گے۔ان کو خیال کرنا چاہئے کہ وہ سال کی بات بھول بھلا گئے اب ذکیر کا تقاضا ہے کہ پھر ان کو یہ باتیں یاد کرائی جائیں۔یہ حدیث ہے جامع ترمذی کی۔فرمایا: ” جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطانوں اور سرکش جنوں کو جکڑ دیا جاتا ہے اور آگ کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں اور اس کا ایک بھی دروازہ کھلا نہیں رکھا جاتا۔“ اب اس حدیث کو اگر آپ صحیح نہ سمجھیں تو یہ ایک غلط بات ہے اور رسول اللہ اللہ ہی ہم غلط بات بیان کر ہی نہیں سکتے۔آپ اپنے گردو پیش لندن کی گلیوں کو ہی دیکھ لیں اور سارے یورپ، امریکہ ان کو تو در کنار کر دیں، پاکستان اور بنگلہ دیش میں اور دیگر مسلمان ممالک میں جو رمضان کے دوران ظلم ہوتے ہیں اور بے حیائیاں ہوتی ہیں ان سے آج کا اخبار اٹھا کے دیکھ لیں بھرا پڑا ہے قتل وغارت، زنابالجبر ، اغوا، گینگ ریپ اور معصوموں کا قتل۔کوئی ایک بات بتا ئیں جو رمضان سے پہلے تو کھلی چھٹی تھی لیکن اب مسلمان اس سے رُک گئے ہوں۔پس یہ فرمان پھر کیا معنی رکھتا ہے کہ جب ماہ رمضان