خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 29 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 29

خطبات طاہر جلد 17 29 29 خطبہ جمعہ 9 جنوری 1998ء اب دیکھیں ” فرض نمازیں ادا کروں اب فرض نمازوں کا ادا کرنا ایک بہت بڑا دعویٰ ہے۔ان نمازوں کا جو کھڑی ہوتی ہیں جن کو کھڑا رکھا جاتا ہے، جن کی حفاظت کی جاتی ہے تو بظاہر اس نے چھوٹی بات کی لیکن بہت بڑی بات کر گیا۔پھر رمضان کے روزے رکھوں گا ، یعنی روزے رکھنے سے مرادان شرائط کے ساتھ جیسا کہ رمضان کے روزوں کا حق ہے۔” حلال کو حلال اور حرام کو حرام گردانوں گا۔“ اب دیکھیں کتنی بڑی آزمائشوں سے بچنے کا اس نے وعدہ کیا ہے۔” حرام کو حرام‘ حالانکہ انسانی زندگی میں بکثرت ایسے مواقع پیش آتے ہیں کہ اس کا مال عملاً حرام کی ملونی رکھتا ہے اور یہ وعدہ کر رہا ہے کہ میں حرام کو حرام جانوں گا ہر گز اس میں غیر حلال کی ملونی داخل نہیں ہونے دوں گا۔یہ تو بہت ہی بار یک نیکی کا دعوی ہے، بڑی احتیاط کا دعوی ہے تمام امور پر نظر رکھنے کا، اپنی کمائی پر ہر طرف سے نظر رکھنے کا دعویٰ ہے۔آپ میں کتنے ہیں جو اس دعویٰ کو پورا کرتے ہیں یا اس پر پورا اترتے ہیں؟” اس سے زائد کوئی عمل نہ کروں گا۔کتنے ہیں جو اس سے زائد عمل کرتے ہیں؟ آپ میں سے جو روزہ دار ہیں مجھے نہ بتا ئیں اپنے گھر جا کے سوچیں کیا حرام کو حرام سمجھنے کے ہر پہلو پر ان کی نظر ہے؟ پھر بھی جنت کے ہم اُمیدوار بنے بیٹھے ہیں اور اللہ کا فضل یقینا اگر شامل حال ہو تو ہمیں جنت میں داخل فرمائے گالیکن ان کمزوریوں کے باوجود جو حلال کو حلال نہ سمجھنے کی کمزوریاں ہیں اور حرام کو حرام نہ سمجھنے کی کمزوریاں ہیں۔اس لئے یا درکھیں کہ یہ حدیث بہت بڑا تقاضا کر رہی ہے، دینی عمل کو آسان نہیں بنا رہی۔لوگ سمجھتے ہیں چھٹی ہو گئی بنیادی باتیں سب پوری کر دیں۔بنیادی باتیں پوری کریں گے تب پتا چلے گا کہ چھٹی کوئی نہیں ہوئی تھی اور سفر کا آغاز ہوا ہے۔پس رسول اللہ لیا تم نے چونکہ فرمایا کہ ”ہاں“ اس لئے اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ توفیق عطا فرمائی ہوگی۔اب یہ سمجھ نہیں آئی کہ اس میں اس شخص کا نام کیوں نہیں دیا گیا، اس میں حکمت ضرور ہوگی۔حضرت جابر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت صلی الی تم سے پوچھا، یہ پتا کرنا چاہئے کہ کیا اس کا نام بھی کہیں مذکور ہے کہ نہیں۔یا یہ بھی ایک طریق تھا۔مجھے اس لئے دلچسپی ہے کہ بعض دفعہ حضرت جبرائیل انسانی شکل میں متمثل ہوا کرتے تھے اور دین کے تمام پہلو مسلمانوں کو سکھانے کے لئے رسول اللہ صلی لہ یہی تم سے سوال کیا کرتے تھے ، ادنی پہلو بھی اور سب سے بالا پہلو بھی مختلف سوالوں سے ظاہر ہو جایا کرتا تھا تو مجھے یہ شک پڑ رہا ہے کہ یہ کہیں جبرائیل تو نہیں تھے جنہوں نے انسانی روپ