خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 405
خطبات طاہر جلد 17 405 خطبہ جمعہ 12 جون 1998ء میں یہ ہو نہیں سکتا کہ اللہ تعالیٰ ان کی ان زیادتیوں کو نظر انداز فرما دے۔ہمیشہ خدا کا یہی دستور رہا ہے کہ جماعت کو توفیق بخشتا ہے۔جب یہ لوگ نظر انداز کرتے ہیں تو ان کو سزا ملتی ہے۔کشمیر میں جب بالآخر علامہ اقبال نے حضرت مصلح موعود کی کوششوں کو نظر انداز کیا تو اس کے بعد پھر کشمیریوں پر مظالم کا ایک ایسا دور شروع ہوتا ہے جس کو قیامِ پاکستان ہی نے آکر ختم کیا یا ایک حد تک ختم کیا اور قیام پاکستان کے بعد دوبارہ پھر اگر کشمیریوں کی حمایت کے آغاز کا موقع ملا تو حضرت مصلح موعودؓ کو ملا ہے۔کس طرح ان باتوں سے آنکھیں بند کرتے ہیں تعجب ہے۔یقین نہیں آتا کہ کوئی شخص اس طرح حقائق کو دیکھ کر ان سے آنکھیں بند کر کے بالکل ایک مختلف بات من گھڑت بات اس کی جگہ بنالیتا ہے۔کشمیر کی تاریخ کے متعلق اب میرے پاس حوالے تو نہیں ہیں جو مجھے زبانی یاد ہے وہ یہ ہے کہ پارٹیشن کے فوراً بعد حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رتن باغ سے اس تحریک کا آغاز کیا ہے۔احمدی آفیسر ز آپ کو ملنے آتے رہے اور بہت سے غیر احمدی افسران آپ کو ملنے کے لئے آتے رہے کیونکہ ان کو اعتماد تھا کہ اگر یہ تحریک کوئی شروع کر سکتا ہے تو صرف آپ کر سکتے ہیں۔صوبہ سرحد میں رائے عامہ کو درست کرنے کے لئے آپ نے احمدی با اثر پٹھانوں کو مقرر کیا اور انہوں نے تمام صوبہ سرحد کا دورہ کر کے رائے عامہ کو کشمیر کے حق میں اُبھارا اور جو جتھے جانے شروع ہوئے ہیں کشمیر کی تائید میں یعنی پٹھانوں کے جتھے وہ جماعت احمدیہ نے بھیجے تھے۔اب یہ جو چاہیں اس کا نام رکھ دیں۔یہ حقائق ہیں جو تاریخ کے حقائق ہیں ان کو کوئی شریف النفس انسان ملیا میٹ نہیں کر سکتا۔چاہے بھی تو نہیں کر سکتا۔بد باطن بھی ملیا میٹ نہیں کر سکتا کیونکہ یہ تاریخ کا حصہ ہیں۔یہ جیسے پتھر پر تحریریں لکیر بن جاتی ہیں جو مٹائی نہیں جاسکتیں وہ لکیر ہے یہ تاریخ پر ، جس کو اب یہ لوگ مٹا نہیں سکتے مگر جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے آپ کو صبر سے کام لینا ہوگا۔وقت بدل جایا کرتے ہیں۔پہلی قوموں نے بھی بہت صبر سے کام لیا ہے اور بالآخر حقیقی تاریخ کے نقوش ان مٹائی ہوئی تحریروں میں سے ابھر نے شروع ہوئے اور نئے نقشوں نے جگہ لی ہے۔پس جماعت احمدیہ کو میری یہ نصیحت ہے کہ آپ صبر سے کام لیں۔جہاں تک ممکن ہے ان باتوں کو اخباروں میں شائع کرنا شروع کریں کیونکہ اس قوم کی یادداشت بہت ہی چھوٹی ہے۔اگر کوشش کریں گے تو کوئی بعید نہیں کہ اگر احمدیوں کے وفود ملیں پاکستان کے بعض کرتا دھرتا ایڈیٹرز